تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 77 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 77

LL والوں میں سلسلہ خلافت جاری نہ ہو سکتا۔حضرت اقدس تو خود ایک حدیث کی تشریح میں فرماتے ہیں۔ثُمَّ يُسَافِرِ الْمَسِيحُ الْمَوْعُودُ اَوْ خَلِيفَةٌ مِنْ خُلَفَائِهِ إِلَى أَرْضِ دِمَشْقَ - حمامة البشریٰ صفحہ ۳۷ طبع اوّل) یعنی پھر مسیح موعود خود یا اس کے خلیفوں میں سے کوئی خلیفہ دمشق کی طرف سفر کرے گا۔دیکھئے آپ نے اپنے آپ کو خاتم الخلفاء قرار دینے کے باوجود اپنے بعد خلافت کو منقطع قرار نہیں دیا۔پس خاتم الخلفاء سے بھی یہ مراد ہوئی کہ آئندہ خلفائے اسلام آپ کے فیض اور اثر سے ہوں گے اور وہ آپ پر ایمان رکھنے والے ہونگے۔پھر جس طرح خاتم النبین با معنی نبی تراش کے لئے لازم ہے کہ وہ شریعت لانے والے انبیاء اور مستقل انبیاء کا آخری فرد ہو اسی طرح مسیح موعود خاتم الخلفاء کو آخری خلیفہ ہونا ان معنوں میں لازم ہے کہ مسیح موعودان خلفاء میں سے آخری خلیفہ ہونے والا تھا جنہوں نے آنحضرت ﷺ کے واسطہ سے مقام خلافت پایا ہے۔چونکہ مسیح موعود کا واسطہ شرط ہو گا۔پس ان حقیقی معنوں میں خاتم الخلفاء کے معنی بھی خاتم النبیین کے معنی نبی تراش کے مطابق ہیں۔خاتم النبیین کے معنی محض آخری نبی یا مطلق آخری نبی محض مجازی معنی ہیں۔مطلق آخری ہونا کسی فضیلت ذاتیہ پر دال نہیں ہوتا چونکہ خاتم النبیین کا وصف آنحضرت ﷺ کی مدح میں ہے اس لئے اس کے حقیقی معنی نبی تراش ہی درست معنی ہیں۔حضرت مسیح موعود نے جن عبارتوں میں خاتم النبیین کے بعد کسی نئے یا پرانے نبی آنے کی نفی کی ہے۔وہ نفی مستقل اور تشریعی نبی کے دعوی سے تعلق رکھتی ہے۔اور خاتم السلمین کے معنوں کا یہ منفی پہلو اس کے حقیقی معنی نبی تراش سے تضاد نہیں