تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 69 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 69

۶۹ 66 ہے جس طرح مجھے پر نبوت کو۔“ اب جناب برق صاحب ذرا سینے پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ کیا ہجرت علی الاطلاق مسلمانوں پر منقطع ہو گئی ہے۔اور ہندوستان اور فلسطین سے مسلمانوں کی ہجرت ہجرت نہیں۔کیا آنحضرت ﷺ کے چچا حضرت عباس کی ہجرت کے بعد برق صاحب کے نزدیک وَمَنْ تُهَا حِرَ فِی سَبِیلِ اللہ کی آیت منسوخ کر دی گئی ہے ؟ ہر گز نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس سے آیت ہجرت منسوخ نہیں ہوئی بلکہ حدیث نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے والوں میں سے حضرت عباس کو آخری فرد قرار دیا ہے۔اور اس طرح حضرت عباس پر مکہ سے مدینہ کی مخصوص ہجرت کو ختم قرار دیا گیا ہے۔نہ کہ ہجرت مطلقہ منقطع قرار دی گئی ہے۔اسی طرح آنحضرت عے پر مخصوص نبوت یعنی تشریعی یا مستقلہ نبوت جو آدم سے شروع ہوئی تھی ختم قرار دی گئی ہے۔نہ که نبوت مطلقہ جس کا امکان از روئے حدیث و قرآن ثابت کیا جا چکا ہے۔اور جس امکان پر حدیث کے الفاظ نبيها منها نص صریح ہیں۔حدیث و ہم ،، أنَا العَاقِبُ وَالعَاقِبُ الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِي۔“ میں عاقب ہوں اور عاقب وہ ہوتا ہے جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔“ یہ روایت حجت نہیں۔اس کا راوی سفیان بن عیینہ ہے جس نے یہ روایت زھری سے لی ہے سفیان کے متعلق لکھا ہے۔"كَانَ يُدرِّسُ قَالَ أَحْمَدُ يُخْطِئُ فِى نَحْو مِنْ عِشْرِينَ حَدِيثٍ عَنِ ورد الزُّهْرِيِّ عَنْ يَحْيَ بْنُ سَعِيدٍ القُطَّانِ قَالَ اَشْهَدُ اَنَّ السُّفْيَانَ بَنْ عُيَيْنَةَ اخْتَلَطَ سَنَةَ وَ تِسْعِينَ مِائَةَ فَمَنْ سَمَعَ مِنْهُ فِيهَا فَصَاعِداً لا شئ سَبْعٍ 66 میزان لاعتدال جلد ۲ صفحه ۳۹۷)