تحقیقِ عارفانہ — Page 67
76 کیونکہ ماتحت عدالتیں اس کی مؤید ہوتی ہیں۔اسی طرح امتی نبی کی آمد آنحضرت مے کے آخری نبی ہونے کے خلاف نہیں۔کیونکہ یہ نبوت آنحضرت ﷺ کی نبوت کی تائید کے لئے ہے۔چنانچہ آنحضرت ﷺ نے ایک اور حدیث میں جو برق صاحب نے پیش نہیں کی اپنے آپ کو اسی مفہوم میں آخر الانبیاء قرار دیا ہے۔چنانچہ حضور فرماتے ہیں۔إِنِّي آخِرُ الْأَنْبِيَاءِ وَمَسْجِدِى آخِرُ المَسَاجِدِ 66 ( صحیح مسلم باب فضل الصلوة في مسجدى اللحه والمهديد) یعنی بے شک میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد سب مسجدوں میں آخری مسجد ہے۔“ پس جن معنوں میں مدینہ منورہ کی مسجد نبوی آخری مسجد ہے انہی معنوں میں آنحضرت ﷺ آخری نبی ہیں۔اگر مسجد نبوی کے بعد جو اس حدیث میں آخری مسجد قرار دی گئی تابع مسجدوں کا بنانا جائز ہے تو آنحضرت نے کے بعد تابع نبیوں کا آنا بھی جائز ہے۔کیونکہ جس طرح تابع مساجد مسجد نبوی کا ظل ہو نگی اسی طرح تابع نبی آنحضرت ﷺ کا فل ہو گا۔پھر اس حدیث میں آخر بمعنی افضل بھی مراد ہو سکتا ہے۔یعنی میں افضل الا نبیاء ہوں اور میری یہ مسجد افضل المساجد ہے۔حدیث ہشتم الصَّالِحَةُ ذَهَبَتِ النُّبُوَّةَ فَلَا نُبُوَّةَ بَعْدِى إِلَّا المُبَشِرَاتُ قِيلَ مَا الْمُبَشِّرَاتُ قَالَ الرُّؤْيَا اس حدیث میں ذَهَبَتِ النُّبُوَّةُ کے الفاظ سے مراد نبوت تشریعہ اور مستقلہ ہے نہ کہ مطلقہ۔اس لئے بعد کے فقرہ فَلَا نُبُوَّةَ بَعْدِى إِلَّا المُبَشِّرَات میں مبشرات والی نبوت کا استثناء کر کے اس کا امکان ثابت کر دیا گیا ہے۔صحیح مطاری کی ایک حدیث میں یہ