تحقیقِ عارفانہ — Page 687
۲۸۷ اقدس نے جن علماء کے خلاف سخت الفاظ استعمال کئے ہیں انہوں نے آپ کے خلاف سخت گندا چھالا تھا اور آپ کو معاذاللہ مفتری۔خائن۔حرامخوار و جال۔ضال اور متال سے بھی بڑھ کر الفاظ کا نشانہ بنایا تھا جس کی تفصیل میں ہم جانا نہیں چاہتے۔ایسے لوگوں کے مقابلہ میں حضرت اقدس نے جو الفاظ استعمال فرمائے ہیں وہ جَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَة مِثْلُهَا ( شوری (۴۱) کے مطابق ہیں۔اور آیت لايُحِبُّ اللَّهُ الْجَهَرَ بِالسُّوءِ مِنَ الْقَوْل إِلَّا مَنْ ظلِمَ- (النساء :۵۰) ( یعنی خدا اعلامیہ سخت کلامی کو پسند نہیں کرتا بجز اس کے کہ کوئی مظلوم ہو اور وہ سخت کلامی کرے) کے مطابق جائز ہیں۔پھر آپ کے لئے انتہائی مظلوم ہوتے ہوئے آیت لَاتُجَادِلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ الَّابِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمُ ( عنکبوت : ۴۷) کے مطابق بھی سخت الفاظ کا استعمال جائز تھا اس آیت کا ترجمہ یہ ہے۔تو اہل کتاب سے ان لوگوں کے سوا جنہوں نے ظلم کیا ہے احسن طریق سے بحث کر۔یعنی ظالموں کو حث میں جزاء سبقة سينه منلها کے مطابق جواب دیا ميئة سيئة جاسکتا ہے۔پس ظالموں کے خلاف تلخ نوائی از روئے تعلیم قرآن جائز ہے بلکہ بعض حالات میں ضروری ہے۔چنانچہ اسی لئے قرآن کریم نے قوم یہود کو بند ر اور سور قرار دیا ہے بلکہ شر البرية یعنی کتوں اور سؤروں سے بھی بدتر ٹھہرایا ہے۔مگر برق صاحب کو ان علماء اور مسلمانوں نے تو کوئی گالی نہ دی تھی۔بلکہ جناب برق صاحب ان علماء پر از خود ابتدائی طور پر بر سے ہیں اور بیچارے درود خوان مسلمانوں کی ایسی مٹی پلید کی ہے کہ حیرت آتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نیک اعمال جالانے والوں اور درود پڑھنے والوں کو انہیں درود خوان کہہ کر کبھی بھلا کر انہیں کہا۔جناب برق صاحب کو اپنی آنکھ کا