تحقیقِ عارفانہ — Page 685
۶۸۵ دینے والے اور کتمان حق سے کام لینے والے علماء کو بد ذات فرقہ۔اے ظالم مولویو۔کے الفاظ سے ذکر کیا ہے۔یا بعض خبیث طبع مولوی جو یہودیت کا ضمیر اپنے اندر رکھتے ہیں۔یادل کے مجذوم اور اسلام کے دشمن یا خنزیر سے زیادہ پلید۔مردار خوار گندی رو ھیں۔اندھیرے کے کیڑے قرار دیا ہے۔یا انہیں جھوٹا اور کتوں کی طرح مردار کھانے والا لکھا ہے۔اگر برق صاحب ان مخالف مولویوں کا کلام بد زیر نظر رکھتے تو خود بھی انہیں ایسا ہی سمجھتے اور یہ یقین کرتے کہ ان علماء نے اپنے وجود سے حدیث نبوی عَلَمَاءُ هُمُ شَرٌّ مَنْ تَحْت أدِيمِ السَّمَاء کی فی الواقعہ تصدیق کر دی ہے۔خود جناب برق صاحب بھی اپنے زمانہ کے خاص قسم کے مولویوں سے بیزار ہیں اور ان کی شان میں ملا کی مکاری" کے عنوان کے تحت رقمطراز ہیں :- قرآن کریم کا ہر حکم فرض ہے۔ملا کی مکاری ہے کہ وہ پانچ آسان احکام کی محض ظاہری صورت کو تو وہ فرض سمجھتا ہے اور باقی تمام قرآن کے احکام پر عمل کرنے کو یا تو مستحب قرار دیتا ہے یا چھپا جاتا ہے۔" ( دو قرآن صفحه ۳۵ مصنفه برق صاحب) پھر تحریر فرماتے ہیں :- ”ہمارا مذہبی راہنما یعنی ملا اعمال خدا سے اسقدر جاہل اس قدر کورا اور مطالعہ کا ئنات سے اسقدر بیگانہ ہے کہ اسے اتنا بھی معلوم نہیں۔۔۔۔الغرض ملائے اسلام اعمال الہی سے یکسر غافل معجزات تخلیق سے قطعاً نا آشنا۔فطرت کے ایمان افروز کارناموں سے بالکل یگانہ ہے اور پھر بھی علم کا مدعی ہے۔“ ( دو قرآن صفحه ۱۲) پھر نبی کریم ﷺ پر درود بھیجنے والے مسلمانوں کی شان میں لکھتے ہیں :- لیکن درود خوان مسلمانوں نے اس طرف توجہ نہ دی۔اور ذلت اور رسوائی کے جہنم میں دھکیل دیئے گئے۔“ ( دو قرآن صفحه ۲۹)