تحقیقِ عارفانہ — Page 551
۵۵۱ سے ان کی نیت ظاہر ہے جو تحقیق کی بجائے عناد پر دلالت کرتی ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام آریہ دھرم صفحہ ۱۸۱۷ میں تحریر فرماتے ہیں :- دو حال کی تحقیقات جدیدہ کی رو سے بھی یہ بات ثابت ہو گئی ہے اور ڈاکٹروں نے اس میں مشاہدات پیش کئے ہیں چنانچہ ایک ڈاکٹر صاحب یعنی مصنف رسالہ معدن الحکمت اپنی کتاب کے صفحہ ۶۳ میں لکھتے ہیں ایک حمل پہلے حمل کے بعد کچھ دنوں کے فاصلہ سے ٹھر سکتا ہے۔اور اس کے ثبوت میں سے ایک یہ ہے کہ بیک صاحب اپنا مشاہدہ لکھتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ ۱۷۱۴ء میں ایک گوری عورت کے دو لڑ کے ایک کالا اور دوسرا گورا تھوڑی دیر کے بعد فاصلہ سے پیدا ہوئے اور تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اس کے خاوند کے بعد ایک حبشی نے مجامعت کی تھی۔اسی طرح ڈاکٹر میٹن صاحب نے بیان کیا ہے کہ ایک حمل پر تین مہینے کے وقفہ سے حمل ٹھہر گیا اور دو لڑکے پیدا ہوئے اور انہوں نے عمر پائی اور کوئی ان میں سے نہ مرا۔“ " اس اقتباس سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حاملہ عورت کے لئے وضع حمل کی عدت کی جو وجہ بیان فرمائی ہے میڈیکل سائنس کی رو سے بعض عورتوں میں اس وجہ کے پایا جانے کا امکان ہوتا ہے۔کیونکہ اس کے شواہد ڈاکٹروں نے مشاہدہ کئے ہیں۔قرآن کریم نے بھی اقل مدت وضع حمل کی چھ ماہ قرار دی ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :- حَمْلُهُ وَفِصَلُهُ ثَلْثُونَ شَهْراً (الاحقاف : ١٦) کہ حمل اور دودھ چھڑانے کی مدت تمہیں مہینے ہے۔اور دوسری جگہ فرماتا والوالِداتُ يُرْضِعْنَ أَوْلادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلین۔(البقره: ۲۳۴) گویا اس آیت میں بچے کو دودھ پلانے کی مدت کامل دو سال بتائی ہے۔