تحقیقِ عارفانہ — Page 496
۴۹۶ باب نہم الهامات پر اعتراضات کے جوابات برق صاحب نے اپنی کتاب کے نویں باب میں الہامات کے عنوان کے تحت آریہ دھرم صفحه ۸ سے اول یہ عبارت نقل کی ہے :- یسی (عربی) ایک پاک زبان ہے جو پاک اور کامل علوم عالیہ کا ذخیر ہ اپنے مفردات میں رکھتی ہے۔اور دوسری زبانیں ایک کثافت اور تاریکی کے گڑھے میں پڑی ہوئی ہیں۔اس لئے وہ اس قابل ہر گز نہیں ہو سکتیں کہ خدا تعالیٰ کا کامل اور محیط کلام ان میں نازل ہو۔“ اس کی بناء پر برق صاحب نے سوال کیا ہے :- سوال اول پھر یہ کیا بات ہے کہ اسی خدا نے دیگر تاریک وکثیف زبانوں میں بھی سینکڑوں الہامات آپ پر نازل کئے سمجھ میں نہ آیا کہ اللہ تعالیٰ کو کونسی مجبوری پیش آئی تھی کہ اس نے کامل اور پاک زبان چھوڑ کر تاریک وکثیف زبانوں میں بھی بولنا شروع کر دیا۔اگر حقیقی باقی تمام زبانیں تاریک و کثیف تھیں تو پھر آپ نے پوری بہتر کتابیں کثیف اردو میں کیوں لکھیں۔ہزار ہا اشعار کثیف فارسی میں کیوں تصنیف فرمائے اور زندگی بھر پنجابی جیسی تاریک زبان کیوں بولتے رہے۔“ ( حرف محرمانه صفحه ۳۲۲ و صفحه ۳۲۳) آریہ دھرم کی عبارت کا مطلب صرف اتنا تھا کہ خدا تعالیٰ کا کامل اور محیط