تحقیقِ عارفانہ — Page 474
۴۷۴ اطلاع دے دی گئی۔چنانچہ اس الہام اور رؤیا کے مطابق آپ کی وفات ۲۶/ مئی ۱۹۰۸ء کو ہوئی پس الہام نے آپ کی وفات کا ذکر کر کے خود گواہی دیدی ہے کہ خدا تعالی کے ازلی علم میں جو آپ کی عمر مقدر تھی جلدی ختم ہونے والی ہے۔پس آپ کا الہام الہی کے مطابق لمبی عمر پانا بھی خدا کے نشانوں میں سے ایک عظیم الشان نشان ہے۔اور آپ کی وفات کا زمانہ قریب آجانے پر آپ کو خدا کی طرف سے اطلاع دیا جانا بھی ایک نشان ہے۔عمر کے متعلق اندازے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی کتابوں میں اپنی عمر اندازے سے لکھتے رہے ہیں۔کیونکہ آپ کی تاریخ پیدائش محفوظ نہ تھی۔چنانچہ کتاب البریۃ میں آپ نے لکھا کہ :- ” میری پیدائش ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی اور ۱۸۵۷ء میں سولہ برس یا سترھویں برس میں تھا۔“ (کتاب البریہ صفحہ ۱۳۴) برق صاحب کا اعتراض اس پر جناب برق صاحب سوال کرتے ہیں کہ :- یا کوئی حساب دان یہ بتا سکتا ہے کہ آپ ۱۸۵۷ء میں کس حساب سے سولہ برس کے تھے ؟ خیر اسے چھوڑیئے۔صرف سال ولادت یاد رکھئے اور سال وفات ۱۸۳۹ ۶۹ ۱۹۰۸ء سے منہا کر دیجئے۔١٩٠٨ ۱۸۴۰