تحقیقِ عارفانہ — Page 473
۴۷۳ الشان ہے۔انسان کو اپنی عمر کا کوئی اعتبار نہیں ہو تا لیکن غور کریں کہ ایک شخص جو آئندہ چل کر مامور من اللہ بنے والا اور مخلوق کو خدا تعالیٰ کی طرف بلانے والا ہے۔خدا تعالی ۱۸۶۵ء میں اس کی وفات سے ۴۳ سال پہلے اسے یہ اطلاع دیتا ہے کہ وہ لمبی عمر پائے گا۔اور یہ بات اسی طرح وقوع میں آجاتی ہے اس الہام کا اگلا حصہ جناب برق صاحب نے چھوڑ دیا ہے جو تری نَسُلًا بَعِيدًا ہے یعنی تو دور کی نسل دیکھے گا۔الہام کا یہ حصہ پیشگوئی کی عظمت کو اور بڑھا رہا ہے اور بتا رہا ہے کہ آخر عمر تک آپ کے ہاں اولاد ہو گی اور پھر اولاد کی اولاد کو بھی آپ دیکھ لیں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔فالحمد لله على ذالك۔اس الہام میں آپ کی عمر کے متعلق پوری تعیین کو مبہم رکھنے میں بھی ضرور اللہ تعالیٰ کی کوئی مصلحت تھی۔لیکن جب آپ کی وفات کا وقت قریب آنے کو تھا تو اس وقت خدا تعالیٰ نے آپ پر واضح کر دیا قرب احلك المقدر کہ تمہاری مقررہ اجل قریب آگئی ہے۔یہ الہام آپ نے رسالہ الوصیۃ میں درج فرمایا۔اس میں تحریر فرمایا کہ مجھے الہام ہوا ہے۔جَاءَ وَ قُتُكَ قَرُبَ أَجَلُكَ الْمُقَدَّرُ یعنی تیر اوفات کا وقت قریب آگیا ہے۔اور تیری عمر کی میعاد جو مقرر کی گئی تھی اس کے پورا ہونے کا وقت آگیا ہے۔الوصیۃ ۱۹۰۵ء میں لکھی گئی۔پھر حضور فرماتے ہیں :- " ر دیا میں ایک کوری ٹنڈ میں مجھے کچھ پانی دیا گیا۔پانی صرف دو تین گھونٹ اس میں باقی رہ گیا ہے لیکن نہایت صاف اور مقطر پانی ہے اس کے ساتھ ہی الہام ہوا۔نهایت صافہ آپ زندگی۔66 ریویود سمبر ۱۹۰۵ء) اس الہام اور رؤیا سے ظاہر ہے کہ جب حضرت اقدس کی عمر میں خدا تعالیٰ کے نزدیک تھوڑا عرصہ باقی رہ گیا۔تو اس وقت آپ کو وفات کا زمانہ قریب آجانے کی