تحقیقِ عارفانہ — Page 384
۳۸۴ ہیں تو آپ نے اسے مخاطب کر کے کہا :- ايتها الْمَرْأَةُ تُوبِى تُوبِى فَإِنَّ البَلاءَ عَلَى عَقِبِكِ وَالْمُصِيبَةُ نَازِلَةً عَلَيْكِ يَمُوتُ وَيَبْقَى مِنْهُ كِتَابٌ مُتعدّدة (تتمہ اشتہار دہم جولائی ۱۸۸۸ء) کہ اے عورت تو بہ کر توبہ کر کیونکہ بلا تیری اولاد اور اولاد کی اولاد پر پڑنے والی ہے۔اور تجھ پر مصیبت نازل ہونے والی ہے۔ایک شخص مرے گا اور اس سے کئی ایسے معترض باقی رہ جائیں گے جو زبان درازی کرتے رہیں گے۔برق صاحب نے فَإِنَّ الْبَلاءَ عَلَى عَقِبِكِ کا از خود یہ ترجمہ کیا ہے۔کہ : مصائب تیرا پیچھا کر رہے ہیں۔( حرف محرمانہ صفحہ ۲۶۶) مگر مخاطب چونکہ محمدی بیگم صاحبہ کی نانی صاحبہ ہیں اس لئے عقبك سے مراد نانی کی اولاد یعنی محمدی ریگم صاحبہ اور آگے ان کی اولاد یعنی محمدی بیگم صاحبہ ہیں۔ان دونوں پر مصیبت نازل ہونے کا ذکر یوں ہے کہ ایک شخص مریگا یعنی محمدی دیم صاحبہ کا والد جس سے محمدی بیگم کی والدہ بیوہ ہو جائے گی۔اور یہ موت محمدی بیگم صاحبہ اور ان کی والدہ کے لئے بھی مصیبت ہو گی۔اور محمدی بیگم صاحبہ کی نانی صاحبہ کے لئے بھی مصیبت ہو گی۔پس جناب برق صاحب کے اس اعتراض کی جب بنا ہی غلط ہے ، تو اعتراض بنائے فاسد علی الفاسد کا مصداق ثابت ہوا۔اعتراض چهارم جناب برق صاحب کا چوتھا اعتراض یہ ہے کہ وہ لکھتے ہیں :- " پھر یہ بھی سمجھ میں نہیں آیا کہ نکاح پڑھا اللہ نے زبر دستی کی اس کے اقربا نے کہ سلطان احمد ( سلطان محمد صاحب ناقل) کے حوالے کر دی اور توبہ۔۔کرے محمد می دیم۔“ 66