تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 22 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 22

۲۲ " کی کتابیں لائے ہیں۔بلکہ اس جگہ صرف یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ ہر نبی کو تبشیر وانذار کے علاوہ کتاب شریعت کا علم بھی دیا گیا۔اگر ہر نبی کو الگ الگ شریعت ملنے کا بیان مقصود ہوتا تو پھر اَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتَابَ کی جگہ اَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكُتُبَ کے الفاظ ہوتے۔پس کتاب شریعت بعض اوقات ایک نبی پر نازل ہوتی تھی اور بعد کے انبیاء جو اسی شریعت پر ایمان رکھتے تھے۔انہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کتاب کے حقائق اور معارف کا علم دیا جاتا تھا۔یہی مفہوم انزلَ مَعَهُمُ الكِتاب کا ہے۔چنانچہ تورات کے متعلق جو شریعت موسوی ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔إِنَّا أَنزَلْنَا التَّوْرَةَ فِيهَا هُدًى ونُور يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُوا لِلَّذِينَ هَادُوا وَالرِّبا نيونَ وَالأَحْبَارُ بِمَا استحفِظُوا مِنْ كِتَابِ اللهِ وَكَانُوا عَلَيْهِ شُهَدَاءَ (المائده : ۴۵) یعنی بیشک ہم نے تورات نازل کی تھی جس میں ہدایت اور نور تھا اس کے ذریعہ سے کئی نبی اور خدا پرست جو ہمارے فرمانبردار تھے یہودیوں کے لئے فیصلہ کیا کرتے تھے اس لئے کہ ان سے اس کتاب کی حفاظت طلب کی گئی تھی اور وہ اس کتاب پر گواہ مقرر کئے گئے تھے۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ کے بعد کئی ایسے نبی آئے جن کی شریعت موسی کی شریعت تو راہ ہی تھی وہ تورات سے کوئی الگ شریعت کی کتاب نہیں رکھتے تھے۔البتہ وہ خدائی ہدایت کے ماتحت تورات کو قوم میں نافذ کرتے تھے اور ان پر مغز شریعت موسوی کھولا جاتا تھا۔پس برق صاحب کا یہ نظریہ سراسر بے بنیاد ہے کہ کوئی نبی نئی شریعت لے کر نہیں آیا تھا۔“ برق صاحب کے دوسرے نظریہ کا ابطال (حرف محرمانہ صفحہ ۱۷) اسی طرح جناب برق صاحب کا یہ دوسرا نظریہ بھی باطل ہے کہ ہم کسی نبی کو غیر شرعی فرض کر ہی نہیں سکتے۔غیر شرعی نبی سے مراد برق صاحب کی غیر تشریعی