تحقیقِ عارفانہ — Page 306
کے ایام حیات میں سے دو تین سال باقی رہ گئے ہیں۔چنانچہ وہ رویا یہ ہے۔ایک کو ری ٹنڈ میں کچھ پانی مجھے دیا گیا ہے۔پانی دو تین گھونٹ باقی اس میں رہ گیا ہے۔لیکن بہت مصفی اور مقطر بانی ہے۔اور اس کے ساتھ الہام ہوا آپ زندگی۔(ریویو آف ریلیز دسمبر ۱۹۰۵ء) چنانچہ اس رویاء کے اڑھائی سال بعد آپ کا انتقال ہو گیا۔ر یہ رویا اور الہامات بتارہے تھے ۱۹۰۵ء سے حضرت مسیح موعود کی زندگی کے صرف اڑھائی سال باقی رہ گئے ہیں۔اور حضور کا جلد وصال ہونے والا ہے۔چنانچہ ان الہامات کے مطابق حضور کی وفات لاہور میں ۱۹۰۸ء کو ہوئی۔یہ پیشگوئیاں ڈاکٹر عبدالحکیم کی حضرت اقدس کی وفات کے متعلق پیشگوئیوں سے پہلے کی ہیں۔معلوم ہوتا ہے انہیں کو دیکھ کر ڈاکٹر عبدالحکیم نے اندازہ کر کے پیشگوئیاں کر دیں تھیں۔مگر خدا تعالیٰ نے انہیں جھوٹا کیا۔اب کون انصاف پسند ہے جو حضرت اقدس کے ان الہامات اور ہمارے سارے بیان کو پڑھنے کے بعد آپ کی وفات کو ڈاکٹر عبدا تحکیم خاں کی کسی نام نہاد پیشگوئی کا نتیجہ قرار دے سکے۔جبکہ ڈاکٹر عبدا حلیم خود اپنی پیشگوئیوں کو یکے بعد دیگرے منسوخ کر چکا تھا۔اور اس کی آخری پیشگوئی کہ آپ کی وفات ۴ اگست ۱۹۰۸ کو ہو گی صاف جھوٹی نکلی ہے۔پس حضرت اقدس کی الہامی دعارَبَ فَرِّقُ بَيْنَ صَادِقٍ و كاذب پوری ہو گئی اور خدا تعالیٰ نے ڈاکٹر عبدا حکیم خان کی جھوٹی پیشگوئیوں کا پول کھول دیا اور اسے مغلوب کر دیا۔اور بعد میں سل کی بیماری میں مبتلا کر کے اسے ہلاک کر دیا فاعتبروایا اولی الابصار۔