تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 261 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 261

۲۶۱ گورنمنٹ پر حملہ کرنا شروع کیا۔اور اس کا نام جہاد رکھا۔“ ( حرف محرمانہ صفحہ ۱۷۷، بحوالہ حاشیہ ازالہ اوہام صفحه ۷۲۴) واضح ہو کہ اس زمانہ میں علماء یہی سمجھتے تھے کہ انگریزوں کے خلاف لڑائی جائز نہیں۔ہم ان کے فتوے اور عبارتیں پہلے نقل کر چکے ہیں۔سر سید احمد مرحوم بھی ۱۸۵۷ء کے ہنگامے کے متعلق لکھتے ہیں :- جن لوگوں نے جہاد کا جھنڈا بلند کر دیا۔ایسے خراب اور بد رویہ اور بد اطوار آدمی تھے۔کہ بغیر شراب خوری، اور تماش بینی اور ناچ اور رنگ دیکھنے کے کچھ وظیفہ ان کا نہ تھا۔بھلا کیونکر یہ پیشوا اور مقتدا جہاد کے گنے جاسکتے تھے۔۔اپنی منفعت اور اپنے خیالات کو پورا کرنے اور جاہلوں کے بہکانے کو اور اپنے ساتھ جمعیت جمع کر لینے کو جہاد کا نام دے لینا یہ بات بھی مفسدوں کی حرامزدگیوں میں سے ایک حرامزدگی تھی نہ کہ جہاد۔“ ( اسباب بغاوت ہند صفحہ ۱۰۶، شائع کردہ اردو اکیڈیمی سندھ ) نوب صدیق حسن خان صاحب بھو پالوی لکھتے ہیں :- غدر میں جو چند لوگ نادان عوام الناس فتنہ وفساد پر آمادہ ہو کر جہاد کا جھوٹ موٹ نام لینے لگے۔اور عورتوں اور چوں کو ظلم اور تعدی سے مارنے لگے اور لوٹ مار پر ہا تھ دراز کیا۔اور اموال رعایا بر لیا پر غصباً قابض و متصرف ہوئے۔انہوں نے خطائے فاحش کی اور قصور ظاہر۔اس لئے کہ قرآن وحدیث کے موافق کہیں شرطیں جہاد کی موجود نہ تھیں۔صرف سودائے خام اور خیالی پلاؤ ، حکومت رانی اور ملک ستانی کے ان کے دلوں میں اور مغزوں میں سمائے ہوئے تھے۔ہم نہیں جانتے کہ ان میں سے کسی جماعت اور لشکر میں خلوص نیت اور پاکی نیت اور انصاف واجبی اور طبیعت 66 مذہب اسلام ہو۔“ (ترجمان وہابیہ صفحہ ۱۳) پس حضرت مسیح موعود نے ۱۸۵۷ء کے ہنگامہ کے متعلق جو رائے دی