تحقیقِ عارفانہ — Page 221
۲۲۱ آنحضرت ﷺ نے بتایا ہے کہ میرے اور مسیح موعود کے درمیان کوئی نبی نہیں ہو گا۔پس یہ حوالہ بھی برق صاحب کے ازالہ اوہام کے ان پیش کردہ حوالوں سے کوئی تضاد نہیں رکھتا۔جن میں کسی اور مثیل مسیح کا امکان مانا گیا ہے اور اس حوالہ میں آئندہ کے لئے امتناع کی کوئی خبر موجود نہیں۔اصل سوال کا جواب ا برق صاحب کی دیانت کو بے نقاب کرنے کے بعد اب میں ان کے اصل سوال کے جواب کی طرف متوجہ ہو تا ہوں۔یہ واضح ہو کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے خاتم الخلفاء ہونے کے یہ معنی نہیں کہ اب آپ کے بعد آپ کا کوئی جانشین اور خلیفہ نہیں ہو گا بلکہ جس طرح خاتم النہین کے فیض سے ہم لوگ امت میں نبوت کے باقی رہنے کے قائل ہیں اسی طرح خاتم الخلفاء کے فیض سے خلافت کو بھی باقی مانتے ہیں۔اسی لئے جماعت احمدیہ نے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی وفات پر حضرت مولانا نور الدین صاحب کو آپ کا خلیفہ اور جانشین تسلیم کیا۔پس حضرت مسیح موعود آخری خلیفہ ان معنوں میں ہیں کہ اب خلافت آپ کے واسطہ سے چلے گی جس طرح آنحضرت ﷺ آخری نبی ان معنی میں ہیں کہ اب کوئی شخص آنحضرت عمال اللہ کے دامن فیوض سے الگ ہو کر مقام نبوت نہیں پا سکتا۔پس حضرت اقدس کے کلام کا پہلی عبارتوں سے کوئی تضاد نہیں۔اور یہ برق صاحب کی غلطی ہے کہ انہوں نے خاتم الخلفاء کے بارہ میں حضرت مسیح موعود کی اپنی تشریح کو مد نظر نہیں رکھا۔پس جس طرح آنحضرت عالم النبین کے ظہور کے بعد ان کے اطلال کی آمد ممتنع نہیں اسی طرح مسیح موعود کے ظہور کے بعد کسی اور مثیل مسیح کی آمد