تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 158 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 158

۱۵۸ ہوں۔اور ان کا مثیل ہوں۔یہ بھی تو ان الہامات کا ضروری مفہوم ہی تھا۔چنانچہ اس کی آپ نے اشاعت بھی فرمائی۔ہاں اس وقت آپ پر خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ انکشاف نہیں ہوا تھا کہ مسیح بن مریم وفات پا چکے ہیں۔اس لئے آپ میل مسیح کے دعوی کے ساتھ مسیح موعود کا دعویٰ نہیں کر سکتے تھے۔یہ انکشاف آپ پر بعد میں ہوا کہ آپ ایسے مثیل مسیح ہیں جو مسیح موعود ہے۔تدریجی انکشاف میں اللہ تعالیٰ کے کچھ مصالح ہوتے ہیں جن پر آنکھیں بند کر کے اعتراض کرنا درست نہیں۔آخر رسول کریم علی پر اپنے خاتم النبین ہونے کا انکشاف بھی اپنی وفات سے چند سال پہلے ہوا تھا۔یعنی پانچ ہجری میں اور اپنی نبوت کے متعلق انکشاف بھی آپ پر شروع کے الہامات میں ہی نہیں ہو گیا تھا بلکہ اس انکشاف میں بھی تدریج سے کام لیا گیا تھا۔جب تک آنحضرت ﷺ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی مسئلہ کے بارہ میں انکشاف حقیقت نہیں ہو جاتا تھا آپ اہل کتاب کے طریق پر عمل فرمالیتے تھے۔چنانچہ حدیث میں آیا ہے۔"كان" يُحِبُّ مُوا فَقَةً أهل الكِتابِ فِيمَا لَم يُو مريه ( مسلم باب مدل النبي شعرة) یعنی آپ ان امور میں اہل کتاب سے موافقت پسند کرتے تھے جن امور میں آپ پر وحی سے انکشاف نہ ہو جاتا تھا۔“ اور اپنی شان کے متعلق تدریجی انکشاف بھی آنحضرت ﷺ کی زندگی کے واقعات سے ظاہر ہے جس پر قبل از میں روشنی ڈالی جا چکی ہے۔