تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 112 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 112

۱۱۲ وو یہ خوب یاد رکھنا چاہیئے کہ نبوت تشریعی کا دروازہ بعد آنحضرت ﷺ کے بالکل مسدود ہے اور قرآن مجید کے بعد اور کوئی کتاب نہیں جو نئے احکام سکھائے یا قرآن شریف کا حکم منسوخ کرے یا اس کی پیروی معطل کرے بلکہ اس کا عمل قیامت تک ہے۔“ پھر فرماتے ہیں۔(الوصیۃ صفحہ ۱۲ طبع اوّل) ”خدا اس شخص کا دشمن ہے جو قرآن شریف کو منسوخ کی طرح قرار دیتا ہے اور محمد ی شریعت کے بر خلاف چلتا ہے اور اپنی شریعت چلانا چاہتا ہے۔“ چشمه معرفت صفحه ۳۲۴-۳۲۵ طبع اوّل) افسوس ہے " نزول مسیح کا جو حوالہ برق صاحب نے نقل کیا ہے وہ بھی ادھورا نقل کیا ہے۔ان کی پیش کردہ عبارت کے آگے لکھا ہے۔یعنی باعتبار خلقیت کاملہ کے وہ آئینہ ہوں جس میں محمد ی شکل اور محمدی وہ محمدی نبوت کا کامل انعکاس ہے۔“ ( نزول المسیح صفحه ۳ طبع اول) پس مسیح موعود کی نبوت ظنی ہے اور آنحضرت ﷺ کی نبوت کا انعکاس ہے۔کسی الگ شریعت کے دعویٰ کو یہ مستلزم نہیں۔آپ کی شریعت قرآن مجید ہی ہے آپ کے نزدیک ایسی نبوت کا دعویٰ جو شریعت جدیدہ کی حامل ہو ختم نبوت کے منافی اور کفر ہے۔نہ کہ ظلی نبوت کا دعویٰ۔ظلی نبوت کا اس کی ذاتی حیثیت میں آپ صرف ایک ایسا آئینہ قرار دیتے ہیں۔جس میں محمد ی نبوت منعکس ہو۔اس سے ظاہر ہے خاتم النبین ﷺ کی نبوت ہی آپ میں متجلی ہوئی ہے۔کوئی نیا نبی ظاہر نہیں ہوا۔کیونکہ آئینہ میں اپنی شکل دیکھنے سے دو وجود نہیں بن جاتے۔بلکہ آئینہ میں جو صورت دکھائی دیتی ہے وہ اصل کی صورت کا ظل ہوتی ہے۔اور اس کا قیام اصل سے وابستہ ہو تا ہے۔اس طرح اصل اور ظل دونوں میں ایسا اتحاد ہوتا ہے کہ مور د بروز نفی وجود کا حکم رکھتا