تحقیقِ عارفانہ — Page 110
11۔طرح ادھوری پیش کی ہے کہ تحریر کنندہ کا مطلب اس قطع و برید سے بالکل مخفی ہو گیا ہے وہ عبارت یہ ہے۔" نیز مسیح موعود کو احمد نبی اللہ تسلیم نہ کرنا اور آپ کو امتی قرار دینا یا امتی گروہ میں سمجھنا گویا آنحضرت ﷺ کا جو سید المرسلین اور خاتم النبیین ہیں امتی قرار دینا اور امتیوں میں داخل کرنا ہے جو کفر عظیم اور کفر بعد کفر ہے۔" (حرف محرمانه صفحه ۵۸،۵۷) اس عبارت سے برق صاحب یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ اصل اور مظہر میں کوئی فرق نہیں ہوا کرتا۔اگر جناب مرزا صاحب اسی مظہر ہونے کی بناء پر خاتم الانبیاء من سکتے ہیں تو انہیں لازمناشر کی حقیقی اور غیر امتی نبی ہونا چاہیے اس لئے الفضل کی ترجمانی (حرف محرمانه صفحه ۸۰) صحیح ہے۔عجیب بات ہے کہ برق صاحب نے الفضل ۲۹ جون ۱۹۱۵ء کی مندرجہ بالا عبارت کو اپنے خود ساختہ مفہوم میں لے کر حضرت مسیح موعود کے ذیل کے ارشاد کی ترجمانی قرار دی ہے۔” پس چونکہ میں اس کا رسول یعنی فرستادہ ہوں۔مگر بغیر کسی نئی شریعت اور نئے دعوئی اور نئے نام کے بلکہ اس نبی کریم خاتم الانبیاء کا ام پاک اور اسی میں ہو کر اور ( نزول اسیح صفحه ۲ طبع اول) اس کا مظہر بن کر آیا ہوں۔“ ظلی طور سے نبی کا نام پانے اور آنحضرت ﷺ کا مظہر ہونے سے صاف ظاہر ہے۔اس عبارت میں نئی شریعت لانے کی نفی کرتے ہوئے ظلیت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔افسوس ہے کہ بحث کے اس مقام پر جناب برق صاحب نے دونوں عبار توں میں قطع و برید فرمائی ہے۔حالانکہ ان دونوں مقامات پر ظلی نبوت ہی زیر بحث ہے نہ کہ