تحقیق جدید مُتعلق قبر مسیح ؑ — Page 157
104 بھی عیسائیت کی تبلیغ تھو ما حواری نے کی تھی۔آج تک وہاں کے عیسائیوں کے پاس کوئی انجیل نہیں ہے۔اور وہ توحید پر قائم ہیں۔آج مل کے عیسائی مورخین اس بات پر پردہ ڈالنے کے لئے کہ اصل عیسائیت توحید ہی تھی۔یہ کہا کرتے ہیں۔کرنستوری اور یعقوبی لوگوں نے دکن کے پرانے عیسائیوں کو کافرا در مرتد بنا دیا تھا۔مگر بعد میں رومن کیتھولک پادریوں نے ان کو اپنا ہم خیال بنالیا۔لیکن اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔کہ نستوری اور یعقوبی لوگوں کے زیر انتہ کب وہ ہوئے۔اصل بات یہی ہے۔جو ہم نے لکھی ہے۔کہ ابتداء سے وہ سچے اصلی عیسائی پہلے آتے تھے۔مگر رومن کیتھولک لوگوں نے سند میں آکر ان پر اثر ڈالا اور انہیں اپنا ہم خیال بنا لیا۔و ہم۔چوتھا نتیجہ ان واقعات سے یہ نکلتا ہے۔کہ حضرت مسیح علیہ اسلام اور ان کے توا - ( عبرانی۔سریانی - آرے اک زبانیں بولتے تھے، جن میں کوئی بڑا فرق نہیں۔اور در اصل ایک ہی زبانیں ہیں۔جیسا کہ لاہور کی نجابی اور ملتان کی پنجابی۔اور پہاڑ کی پنجابی جو لاسوری۔ملتانی اور پہاڑی زبانیں کہلاتی ہیں، لیکن مسیح " ، در حواری کبھی یونانی میں وفا نہ کرتے تھے۔لہذا مروجہ اناجیل جن کے پرانے سے پرانے نسخے اس میں حرمین یونانی زبان میں ہیں۔وہ اصل نسخے نہیں ہو سکتے۔ممکن ہے کہ مصل کے تراجم ہوا۔مگر ترجموں میں غلطیاں ہو سکتی ہیں۔لہذا یہ امر محقق علیہ ہے کہ مروجہ اناجیل کے بھی اصل نسخے اس وقت دنیا سے مفقود ہیں۔۵ پانچوار بیڑا ار را به نتیجہ جو ان سارے واقعات سے آج اس زمانہ یہ انکل سکتا ہے۔وہ یہ ہے کہ اس زمانہ میں ان تمام تاریخی واقعات