تحقیق جدید مُتعلق قبر مسیح ؑ — Page 147
۱۴۶ - - واسطے بیرونی شہادت بھی موجود ہے۔اسے آج چند پادریوں کے کہنے پہ رو نہیں کیا جا سکتا۔بہت بڑا نہ درجس بات پر یہ صاحب لوگ دیتے ہیں۔وہ یہ ہے۔کہ بادشاہ گونڈو فاریس ( nadothares جس کے دربار میں تھو سا جواری آیا تھا۔وہ پنجاب میں تھا۔دکن میں نہ تھا۔لیکن میری رائے میں اس کا تسلیم کر لینا ہمارے اصل مقصد کو کی نقصان نہیں پہونچا سکتا۔جب تھو ما حواری شام کے ملک سے چل کر تین چار ہزار میل کا سفر طے کر چکے تو پھر پنجاب سے مدر اس پہونچ جانا کچھ مشکل امر نہیں۔بلکہ قرین قیاس بھی ہے۔کہ تھو ما حواری حضرت جیئے علیہ السلام کے نقش قدم پر شام عراقی - ایران اور افغانستان سے ہوتے ہوئے پنجاب میں داخل ہوائے۔اور پھر یہاں سے اُنھیں حضرت سیح نے بنی اسرائیل کی ان کھوئی ہوئی بھیڑوں کی طرف بھیج دیا۔جو دکن کے علاقوں میں رہتی تھیں۔اور اگر ڈاکٹر رائے کے قول کے مطابق تھورا عرب سے سمندر کے راستے میل کر براہ کراچی دریائے سندھ پر داخل ہو کر اس راستہ سے پنجاب میں آئے تب بھی یہی ثابت ہوتا ہے۔کہ وہ اپنے آقا و مرشد کی تلاش و ملاقات کے لئے اس طرف عازم ہوئے تھے۔اس بوڑھی نن نے بھی جو تھوما کے پہاڑ پر مجھے ملی تھی جیس کا نہ کہ میں رنبیرہ ، میں کر چکا ہوں۔مجھے بلایا تھا۔کہ تھو ما توادی سندھ اور پنجاب کو بھی گئے تھے۔انجیل اعمال تھوما میں لکھا ہے۔کہ مسیح نے خود تقو ما کو اس طرف بھیجا۔اور یہ بھیجنا بعد صلیب کے واقعہ کے ہے۔اور پھر تھوما نے بعض بڑے آدمیوں کے عیسائی بنا نے کے بعد حضرت صدیقیہ کے سامنے اپنے کارناموں کو دہرایا۔جس سے معلوم ہوتا ہے۔مریم "