تحقیق جدید مُتعلق قبر مسیح ؑ — Page 133
مال بار کے یہودی اس بات کے قائل ہیں۔کہ اُن کے آباد دس ہزار کی تعداد میں بیت المقدس سے جنوبی ہندوستان میں آئے تھے۔اور اسی جگہ بود و باسین اختیار کی۔سب سے پہلے جس جگہ آباد ہوئے۔اس کا نام کہ جنکا تو رتھا۔اور اب تک کو چین کے گرد و نواح میں ایک فقیہ ہے۔جس کا تاہم مشن پرسی یا یہودیوں کا شہر ہے۔مالا بار کے قد کہ عیسائی نماز کے اختتام پر ایک سرے سے دوسرے سرے تک سب پر سلام کرتے ہیں۔ایسا کہ مسلمانوں میں اسلام علیکم کہا جاتا ہے) اس کتاب کے بتاتی ہے ایک تو یہ امر واضح ہو جاتا ہے کہ بچونکہ قدیم سے جنوبی ہندوستان میں موجود لوگ موجود تھے۔اور سواری لوگ ہر جگہ گئے ہیں۔جہاں کہیں ہیرو تھے۔اس واسطه عز درے کہ کوئی حواری جنوبی ہند کو گیا ہو۔جیسا کہ خود حضرت مری جالب است وام بانک کشمیر کے یہود کے پاس تشریعیت نہ آئے۔اس سے دکن میں تھوما کے آنے کی خبر کی تائید متی ہے۔دوم و قدیم علیہ ائیوں کا نھا نہ س کے بعد استلام علیکم کہنا اس امر کی دلیل ہے کہ ابتدا و حضریت سے عالی ہے۔انہوں نے ان لوگوں کو ایسا ہی طریق عبادت کا سکھلایا تھا۔جسے وہ بعد میں بُھول گئے۔اور حضرت خاتم النین۔عصر انبار محمد مصطفا صلے اللہ علیہ اسلم نے ان گم گشتہ ہدایتوں پر دنیا اس کا انکہ یہ امر میں طور کہ دنے کے قابل یہ ہے کہ چونکہ شام کے یہودیوں بھی کتاب دعا زبان لیہ اسلام کی ہے کچھ دیا۔اور گو یا قتل ہی کر ڈالا اس اسٹے