تحقیق جدید مُتعلق قبر مسیح ؑ — Page 66
کشمیری زبان میں کرتے تھے انہوں نے مجھکو دیکھ لیا اور بڑی محبت سے اُکھشکر بغلگیر ہوئے۔اور اسرار کے ساتھ مجھکو ٹھہرا لیا۔میں پنڈت رام رتن صاحب جو پو نچھ کے وزیر رہ چکے ہیں۔ان کی کونسٹی میں ٹھہرا ہوا تھا۔بہر حال مولوی صاحب نے مجھکو رات بھی جاننے نہ دیا۔اور بڑی تواضع سے پیش آئے۔اور رات کو حضرت مسیح موعود علیہ سلام کے متعلق سلسلہ کلام رہا۔اور میں نے دیکھا کہ باوجود عالم ہونے کے وہ خاموش ہو ہو جاتے تھے۔اور ان کے پاس سوائے مولوی محمد علی گنا کے تاریخوں کے فلاسفی ایجاد بندہ کے اور کچھ نہ تھا۔بال آخر میں نے ان سے کہا۔کہ آپ ان الہامات کو مانتے ہیں جن میں نبی اور رسول کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔انہوں نے فرمایا۔کہ میں ان کو خدا کی خالص دمی جانتا ہوں اور ان پر میرا ایمان ہے۔میں نے کہا۔کہ خدا کے کلام کو آپ فضول اور محبت بھی مانتے ہیں۔انہوں نے فرمایا۔نعوذ باللہ میں نے عرض کیا کہ ایک شخص نہ بنی ہے۔نہ رسول ہے مگر خدا تعالے ان کو نہیں اور رسول کرکے مخاطب فرماتا ہے۔اس کے متعلق جناب کی کیا رائے ہے۔فرمانے لگے۔کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نبی مانے بغیر چارہ نہیں۔میں نے دوران گفت گو میں ان سے یہ بھی کہا تھا۔کہ قرآن کریم میں جہاں ایھا الناس یا یا ایها الذین آمنوا ذکر کر کے مخاطب کیا گیا مستہ۔آپ کے مسلک کے مطابق ان سے مراد آدمی یا مومن نہیں ہیں۔غرضکہ ساری رات اس قسم کی گفتگو ہوتی رہی۔مولوی صاحب میں بے شک یہ خوبی تھی۔کہ وہ جلدی زنان جاتے تھے۔ہاں میں یہ