تحقیق جدید مُتعلق قبر مسیح ؑ — Page 31
٣٠ اور درختوں پر بیٹھنے والے پرندوں کی ٹیوں کے ڈھیر نظر آتے ہیں۔شروع سے اس میں رسی یا سیڑھی کے ذریعہ اُتر کر آگے کچھ چلنے کا راستہ ملتا ہے۔اور وہ بھی کسی حد تک انسان جا سکتا ہے۔آگے نہیں۔یہ تو کشمیر یمن کے متعلق ایک ضمنی صالات عرض کئے گئے۔اصل بات حضرت مسیح علیہ السلام کے مقام یادگار کے بارے میں ملتی۔وہ یہ کہ کھڑہ کار کے بلند ترین چوٹی پر جہاں سے ضلع پیشادی اور سورت نیز تک کے پر گئے اور علاقہ جات نظر آتے ہیں، اونچے درختوں کے خوشی منظر میں ایک مزار ہے۔جسے بیکہ یوسف الکھتے ہیں۔اس پہاڑ کی اس چوٹی تک شاذ و نادر کوئی جاتے ہیں۔کیونکہ پیکانی سوائے کسی سیاح یا زیارت جانے کے لئے۔جو بطور ادنيا۔دعامانگنے کے جاتے ہیں۔عام زمیندار پیشہ با چرو ا ہے۔بہت کم جاتے ہیں۔کیونکہ اس طرف بعض درندے جانوروں کا احتمال میں ہوتا ہے پٹھانوں کا عقیدہ ہے۔کہ یہ ایک بزرگ کا مزار ہے۔جس نے دودھ سے ان درختوں کی پرورش کی ہے دیہ کچھ مبالغہ معلوم ہوتا ہے ، اور وہ حکومت اور یا منت کے طور پر یہاں رہتا رہا۔اور ان درختوں میں چلغوزے کے قسم اور بعض دیگر پہاڑ سی میوہ جات ہیں۔نیز اس میں تقریبا صدیوں کے گرے ہوئے پرانے بڑے بڑے عظیم الشان درختوں کے تنے پڑے ہوئے ہیں۔جو اعلیٰ درجہ کی تعمیر وغیرہ کے کام آسکتے ہیں۔مگر بیٹھانوں میں ایک یہ بھی راسخ عقیدہ ہے کہ یہاں سے کوئی چیز از ختم میوہ یا لکڑی وغیرہ لیجانے کے لئے اس بزرگ کی اجازت نہیں۔جو لے جا دیگا۔اس کا خانہ خراب ہو گا۔وغیرہ وغیرہ 4