تحقیق جدید مُتعلق قبر مسیح ؑ — Page 29
۲۸ ۱۲- علاقہ سرحد میں مقامه یوز آسف ملک فلسطین سے سفر کر کے کشمیر تک پہونچنے میں حضرت جیسے علیہ السلام کو ایک لمبا عرصہ لگا ہوگا۔کیونکہ اس زمانہ میں پیل اور موٹر جیسی سریع الرفتار سواریاں نہ تھیں۔بلکہ ملکوں اور شہروں کے درمیان سڑکیں بھی عموما نہ تھیں۔اور راستے دشوار گزار اور سفر صعبناک ہوتے تھے۔اور راستہ میں کئی جگہ دنوں کیا بلکہ مہینو رہنا پڑتا ہوگا۔اس واسطے کئی جگہ مسیح کے ٹھہرنے اور قیام کرنے کے نشان ملتے ہیں۔چنانچہ ایک مقام کا پتہ ہمارے دوست ماسٹر محمد شاہ صاحب نے دیا ہے۔ان کا خط درج ذیل کیا جاتا ہے: محمدہ و نصلی علی رسوله الكريم بسم الله الرحمن الرحیم پشاور مورخه ۲۶ ستمبر ۶۱۹۳۳ مگر می جناب مفتی صاحب ! السلام علیکم ورحمتہ اللہ۔! جناب محترم ارشاد نامه جناب کا ملا۔قبر مسیح علیہ سلام کے متعلق افقی ایک بغیر مشتبہ مقام ہمارے سرحد میں موجود ہے جس کی طرف کسی نے توجہ نہیں کی۔اور اس کے قرائن اور روایات سے یہی پتہ چلتا ہے کہ یہ جناب مسیح علیہ السلام کی نشست گاہ اور خلوت گاہ ہے۔میں نے ایک پشتو کتاب لکھنا شروع کی ہے جس میں افغان قوم کی تاریخ اور سلسلہ نسب بنی اسرائیل اور ان کی اس ملک کی طرف ہجرت کے متعلق بالتفصیل ذکر کیا ہے۔اس میں اسد مقام کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔جہاں کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے آثار اور قرائن پائے جاتے ہیں۔اب میں ذیل میں اس مقام کے منظر کوائف