تحقیق جدید مُتعلق قبر مسیح ؑ

by Other Authors

Page 180 of 187

تحقیق جدید مُتعلق قبر مسیح ؑ — Page 180

IEA تین مزید حوالے جو تک فضل حسین مضا میجر جگہ پو قادیان کی نوٹ بک سے نقل کئے گئے سلطان محمود سر قومی کے بعد میں علامہ ابوریحان البیہ کی مہندوستان میں آیا تھا جو اپنے پہلا حوالے یہاں کافی عرصہ قیام کیا۔یہاں کے علوم وفنون سے واقفیت حاصل کی اسکے بعد ان علوم یہ ایک معرکۃ الآر اکتاب عربی زبان میں بھی جسکا نام کتاب الہند ہے۔اس کتاب میں علامہ و موند نے کثیر کے متعلق یہ بھی لکھا ہے کہ اہل کشمیر اپنے ملک کے دروازوں اور رانوں پر ہمیشہ سخت پہر رکھتے ہیں جس سے انکے لئے کسی قسم کی تجارت کر نا شکل ہے۔قدیم وقتوں میں وہ ایک غیر ملکیوں اور خاصہ یہودیوں کو اپنے ملک میں افضل ہو نیکی اجازت دیدیتے تھے - دکتاب الہند کا مندی ترجمہ علیہ دوم اند معبود الآبا) شہادت ندا اسلم کا میں ثبوت ہے کہ یہودیوں کا خطرہ کشمیر سے آغاز اسلام سے بھی کہیں پہنچے سے قدیم اور گہرا تعلق رہا ہے۔خواجہ حسن نظامی صاحب دیوی نے سفر کشمیر کے حالات لکھتے ہوئے ایک جگہ یہی تحریر فرمایا کہ دوسرا حوالہ ، عصر کے بعد روانگی ہوئی اور حرب سر پہلے پہاڑ کے نیچے آگئے۔راستہ میں ڈانڈی اٹھانیو الے کشمیری مسلمانوں کی حمائل کا بہت اچھی طرح مطالعہ کیا۔اور پورا یقین ہو گیا۔کہ اس ملک میں ضرورتی اسرائیل آئے تھے اور یہ لوگ اسی نسل سے ہیں " (رساله در دویش دہلی جلد نمبر ۵ نمبر ومش ) مسٹری ، ایف سٹی کلینڈ ریٹائر ڈ آئی سی۔ایس نے بھی اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ ر حوالی کشمیری مسلمانوں میں بہت سے خاندان اپنے آپ کو اسرائیل کی اولاد خیال کرتے ہیں اور ان کی شکل و صورت بھی یہودیوں جیسی ہے۔۔ان لوگوں میں یہ سبھی روایت ہے کہ جب سید کو زندہ صدی سے آنا لا گیا ته وه ان قوموں کی تلاش میں مشرق کی طرف چل پڑا۔اور سرینگر میں راکھ فوت ہوا۔یہاں یوسف عارف ویر تر استیم نام کی ایک قہر ہے۔جیسے مسیح کی قبر بیان کیا جاتا ہے۔" هم د روزانه اختیار و پر بھارت لاہور ۳۰ مارچ سر صف ) اللہ کی بیسیم پلیس قادیان میں باہتمام چو ہورہی اللہ ہی پر نظر ھے