تحقیق جدید مُتعلق قبر مسیح ؑ — Page 143
۱۴۲ اپیر ہاڑی ہے۔اسے سینٹ ٹائر مونٹ St Jhomass Mont کہتے ہیں۔یہ ایک چھوٹی سی پہاڑی شہر مدراس سے بچھے میل کے فاصلہ پر ہے۔وہاں ریل جاتی ہے۔میں ایک دن اس کے دیکھنے کے واسطے صبح کا وقت تھا۔پہاڑی میں سے اوپر چڑھنے کے واسطے ایک لمبی سڑک پتھر کے زینوں کی بنائی گئی ہے۔جس کا نمونہ دولت آباد قلعہ میں یا بنارس کے گھاٹ پر ایک حد تک دکھائی دیتا ہے۔میں اس پر اکیلا ہیں چڑا تھا۔کوئی اور میرے ساتھ نہ تھا۔قلب میں دعا کی تحریک ہوئی۔منجملہ اور دعاؤں کے میں نے جناب باری میں عرض کی کہ یا الہی حضرت مین ناصری کا حواری یہاں آیا۔مخالفین نے اسے قتل کیا۔وہ شہید بیڑا میں بھی تیرے مسیح کا ایک شکام ہوں۔پر کون سی بسیج محمدی - تو اپنے فصل سے کامیاب اور فتیاب کرا یہ دُعا کرتا ہوا میں اوپر پہونچا۔پہاڑ پر ایک گرجیا بنا ہوا ہے۔جو بند تھا۔اور کوئی شخص وہاں نہ تھا۔اس کے گرد گھومتے ہوئے ایک مدراسی بصورت مجھے ملی۔اس نے ستبلا یا۔کہ تھوڑی دیں میں گر جا کھولا جائے گا۔گر جا کھولنے کے انتظار میں میں وہاں بیٹھ گیا۔اتنے میں پانچ نوجوان سئو شکل و صورت سے مسلمان معلوم ہوتے تھے۔وہاں آگئے۔میں نے ان کو اپنے پاس بٹھا لیا۔دریافت کرنے پر معلوم ہوا۔کہ ریب کے ایک گاؤں میں جو سمندر کے کنارے پر ہے۔ماہی گیر ہیں۔اور بطور تفریح کے یہاں آگئے ہیں۔میں نے سمجھا۔کہ خدا تعالیٰ نے ان کو میرے واسطے بھیجدیا ہے۔تب میں نے ان کو تبلیغ شروع کی۔وہ قادیان کے نام تک سے بھی نا واقف تھے۔ان کو حضرت نبی اللہ مسیح موعود اور مہدی معہود کے تمام حالات مفصل سنائے گئے۔اللہ تعالے نے ان کے دلوں کو