تفسیر خاتم النبیین اور بزرگان سلف — Page 81
کے سوا انہیں کوئی چارہ نہ ہو تا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ کے طفیل مهدی موعود نے متعد د آسمانی نشانوں اور آسمانی برکتوں سے اس دعوی کو ایک سائنسی صداقت کے طور پر ثابت کر دکھلایا اور حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے ابدی اور زندہ روحانی افاضہ کے ثبوت میں اپنے وجود کو پیش کرکے دنیا بھرمیں یہ پر شوکت منادی کی کہ : " میں اُسی خدا کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ جیسا کہ اس نے ابراہیم سے مکالمہ مخاطبہ کیا اور جیسا ہیم پھر اسختی سے اور آمیل سے اور یعقوب سے اور یوسف سے اور موسی سے اور مسیح ابن مریم سے اور سب کے بعد ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا ہم کلام ہوا کہ آپ پر سب سے زیادہ اور روشن اور پاک وحی نازل کی۔ایسا ہی اس نے مجھے بھی اپنے مکالمہ مخاطبہ کا شرف بخشا، مگر یہ شرف مجھے محض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے حاصل ہوا۔اگر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت نہ ہوتا اور آپ کی پیروی نہ کرتا تو اگر دنیا کے تمام پہاڑوں کے براہمہ میرے اعمال ہوتے تو پھر بھی میں بھی یہ شرف مکالمہ مخاطبہ ہرگز نہ پاتا پہلے پھر فرمایا : دہی ہے جو سرچشمہ ہر ایک فیض کا ہے اور وہ شخص جو بغیر اقرار افاضہ اسکے کے کسی فضیلت کا دعوی کرتا ہے وہ انسان نہیں بلکہ ذریت شیطان ہے کیونکہ ہر ایک فضلیت کی کنجی اسکو دی گئی ہے اور مہرایک معرفت اخزانہ اسکو عطا کیا گیا ہے جو اس کے ذریعہ سے نہیں پاتا وہ محروم ازلی ہے بیٹے بلا شبہ حضرت مهدی موعود نے پیشگوئیوں کے مطابق بعض گزشتہ نبیوں کے بروز ہونیکا دعویٰ کرتے ہوئے کہا : میں کبھی آدم کبھی موسی بھی لعقوب ہوں نیز ابراہیم میں نسلیں میں میری بیشمار مگر یہ وضاحت بھی فرمائی کہ ایک آئینه ام زرت غنی ار پے صورت میں مدنی لیکن میں رب غنی کی طرف سے مدینہ کے اس چاند کی صورت کو دکھانے کے لیے ایک آئینہ ہوں نیز بتایا۔P- کی کو تجليات البيه ص ۱ - ۲۰ که حقیقة الوحی ص ۱۱۶ لة ۱۹