تفسیر خاتم النبیین اور بزرگان سلف — Page 27
۲۷ بعض محقیقین کے نزدیک تو انبیائے سابقین اپنے اپنے عہد میں بھی خاتم الانبیاء صلعم کی روحانیت عظمیٰ ہی سے مستفید ہوتے تھے جیسے رات کو چاند اور ستارے سورج کے نور سے مستفید ہوتے ہیں حالانکہ سورج اس وقت دکھائی نہیں دیتا اور جی طرح روشنی کے تمام مراتب عالم اسباب میں آفتاب پر ختم ہو جاتے ہیں اسی طرح نبوت ورسالت کے تمام مراتب و کمالات کا سلسلہ بھی روح محمدی مسلم پر ختم ہوتا ہے بدین لحاظ کہ سکتے ہیں کہ آپ رتبی اور زمانی ہر حیثیت سے خاتم النبیین ہیں اور جن کو نبوت ملی ہے آپ ہی کی مہر لگ d کر لی ہے یا اے خاتمیت رتبی اور زمانی واضح ہو کہ خاتمیت رتبی خاتم النبیین کے اصل معنی ہیں اور خاتمیت زمانی ان معنوں کو آپ کے جسمانی ظہور میں لاحقی ہوتی ہے اس لیے ان دونوں میں لزوم تو قرار دیا جا سکتا ہے۔تناقص قرار نہیں دیا جا سکتا۔یعنی خاتمیت زمانی کے ایسے معنی نہیں لیے جاسکتے جو خاتمیت رتبی کے معنوں کو آئندہ کے لیے منفی کر دیں کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دائمی خاتم النبیین ہیں۔میں خاتمیت زمانی مصرف صلی الله جدید ت والا نبی نہیں آئے حضرت امام علی القاری (متوئی سلام ) نے حدیث لانبی بعدی کی شرح میں لکھا ہے : ور د لاني بَعْدِي معناها عند العُلَمَاءِ لَا تَحدَثُ بَعْدَهُ نبيَّ بِشَرْعِ يَنكُمْ شَرَعَه : لَه اراچنا یعنی حدیث میں لا نبی بعدی کے الفاظ آئے ہیں رجس سے خاتمیت زمانی سمجھی جاتی ہے ناتل ، اس حدیث کے معنی علماء کے نزدیک یہ ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ایسا نبی پیدا نہیں ہو گا جو آپ کی شریعیت کو منسوخ کردے۔پس خاتمیت زمانی ایک وقتی اور محمد ود مفہوم رکھتی ہے نہ کہ خاتمیت رتبی کی طرح وسیع مفہوم قرآن کریم مترجم مولانا محمود الحسن صاحب د مولانا شبیر احمد صاحب عثمانی حاشیہ ص ۵۵۰ ناشر نور کارخانه تجارت کتب آرام باغ کراچی ل الاشاعة في اشراط الساعة ص ۲۲۶ بحواله الشرب الوردی فى مذهب المهدی مسلک و حمانی مهدی مولف مولوی حافظ عبدالرحمن صاحب ماڈل ٹاؤن لاہور