تفسیر خاتم النبیین اور بزرگان سلف — Page 82
این بخشیمه روال که تخلق خدا دهم یک قطره زجر کمال محمد است اس چشمہ روال کو ذرا غور سے دیکھو یہ تو کمالات محمدی کے غیر محدود سمندر کا محض ایک قطرہ ہے اللهم صل على محمد و على آل محمد وبارِك وَسَلِم سُبْحَانَ اللهِ مَا اَعْظَم شان رسول الله - پھر مستقبل میں یہ خیال بھی ذہنوں کے اندر خلجان پیدا کر سکتا تھا کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں ہزاروں لاکھوں بزرگوں کو بڑے بڑے مدارج اور مراتب حاصل ہوئے تو حدیث نبوی میں صرف مسیح موعود کو نبی کیوں کہا گیا ؟ حضرت مهدی موعود علیہ السلام نے اس کا یہ نہایت لطیف جواب دیا کہ : جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء تھے اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں تھا۔اس لیے اگر تمام خلفاء کو نبی کے نام سے پکارا جاتا تو امر ختیم نبوت مشتبہ ہو جاتا اور اگر کسی ایک فرد کو بھی نبی کے نام سے نہ پکارا جاتا تو عدم مشابہت کا اعتراض باقی رہ جاتا کیونکہ موسی کے خلفاء نبی ہیں، اس لیے حکمت الی نے یہ تقاضا کیا کہ پہلے بہت سے خلفاء کو برعایت ختم نبوت بھیجا جائے اور اُن کا نام نبی نہ رکھا جائے اور یہ مرتبہ ان کو نہ دیا جائے تا ختم نبوت پر یہ نشان ہو پھر آخری خلیفہ یعنی مسیح موعود کو نبی کے نام سے پکارا جائے تا خلافت کے امرمی دونوں سلسلوں کی مشابہت ثابت ہو جاتے لے نیز فرمایا : احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ ایسا شخص ایک ہی ہو گا ہے پہلے بزرگوں نے خاتم النبیین کے ایک معنی بادشاہ مفت تعلیم کے بھی کہتے ہیں جو آیت " مذكرة الشهادتین صفحه ۳ ۴ طبع اول اکتوبر سامه ۴۳ نے حقیقہ الوحی طبع اول ص ۳۹۱