تفسیر خاتم النبیین اور بزرگان سلف

by Other Authors

Page 63 of 86

تفسیر خاتم النبیین اور بزرگان سلف — Page 63

۶۳ تیرھویں صدی میں حضرت منظر جانجاناں کے سب سے نامور مر ید حضرت شاہ غلام علی شاہ 1104 " دہلوی (ولادت علام وفات ۱۳۳۰ ) جن کو مولف " موج کوثر نے خاتم الا دلیا " کہا ہے۔آپ آيت ثلةٌ مِّنَ الاَوَّلِينَ وَقَلِيلٌ مِنَ الآخِرِین کی تشریح میں فرماتے ہیں۔ثلة من الاولين يعني من انبياء وقليل من الآخرين يعنى من امة محمد وهم الصحابة وكثير من المتابعين وجماعة من اتباع التابعين وجماعة فى آخر اللهُورِ بعد تجديد الدين بعد الف سنة من الهجرتِ در کمالات نبوت تحیلی ذاتی دائمی است۔بے پردۀ اسماء و صفات و کمالات ك رسالت و کمالات اولوالعزم موجی است انه دریا تے کمالات نبوت " اے و ترجمہ : ثلة من الأولين یعنی نبیوں میں سے قليل من الآخرین یعنی امت محمدیہ میں سے اور اس سے مراد صحابہ اور بکثرت تابعین اور تبع تابعین کی جماعت اور ایک اور ایسی جماعت ہے جو ہجرت کے ہزار سال کے بعد تجدید دین کے لیے قائم ہوگی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالات نبوت کی ذاتی تجلی دائی ہے۔بے پردہ اسکار اور صفات اور کمالاتِ رسالت اور کمالات اولو العزم آنحضرت کے دریائے کمالات نبوت کی ایک موج ہیں۔شہید بالاکوٹ حضرت مولانا شاہ اسماعیل شہادت ۱۲۲۶ ه ) نے تقویۃ الایمان د (ص ۴۲) میں بیاں تک لکھا ہے کہ : اس شہنشاہ کی تو یہ شان ہے کہ ایک آن میں ایک حکیم کن سے چاہے تو کروڑوں نبی اور دلی اور جن و فرشتے جبرائیل اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر پیدا کر ڈالے الے امراد یہ ہے کہ اگر خدا تعالیٰ چاہے تو گن سے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ل کلمات طیبات ص ۱۰۹ مطبع مجتبائی ١٠٩ تقویۃ الایمان" ص ۴۲ ناشر محمد سعید انیڈ سنٹر قرآن محل کراچی