تفسیر خاتم النبیین اور بزرگان سلف

by Other Authors

Page 50 of 86

تفسیر خاتم النبیین اور بزرگان سلف — Page 50

ہم : محمدیت زمان امام اہل ن حضرت امام مولا نا علی بن محمد سلطان القاری (متوفی سه نے آیت خاتم النبیین کی تفسیر درج ذیل الفاظ میں فرماتی ہے کہ : مگاور فلا ينا قبض توله تعالى خاتم النبيين إذا معنى أَنَّهُ لَا يَأْتِي نبي بعده يَنْسَخُ مِلتَةَ وَلَمْ يَكُن مِّنْ اُمَّتِه له ترجمہ : حدیث کو عاش ابراهيم لكان صديقا نبيا ، اللہ تعالیٰ کے قول خاتم النبیین کے ہرگز مخالف نہیں کیونکہ خاتم النبیین کے تو یعنی ہیں کہ آنحضرت کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آسکتا جو آپ کے دین کو منسوخ کرے اور آپ کا امتی نہ ہو۔باز دہم : تحریک پاکستان کے صف اول کے راہنما نواب بہادر یار جنگ مرحوم قائد قلت متونی ۱۳۹۳ - ۱۹۴۴-) فرقہ مہدویہ کے ایک سرگرم رکن تھے۔اس فرقہ کے تمتاز بزرگ حضرت سید شاہ محمد نے پونے دو سو سال قبل لکھا کہ :- ہمارے محمد بفتح تا خاتم نبوت تشریعی میں فقط کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ما كان مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ الآية اور معنی اس کا مہر کرنا ہے یعنی جناب ختمیت انتساب کے وجود پر جود سے دروازہ نبوت تشریعی کا ایسا بند ہوا کہ پھر کوئی نبی صاحب نبوت سابقہ مانند عیسی کے بھی یہ طاقت نہیں رکھتا ہے کہ ایجاد شروع تازہ کا دعوی کرے چہ جائیکہ دوسرا نبی صاحب شرع تازہ پیدا ہو۔نہ یہ کہ فیض نبوت ایسا منقطع اور مرفوع ہو گیا کہ اس صفت سے کوئی موصوف نہ ہوسکے = سه دوازدهم : حضرت مولانا ابوالحسنات عبدالحی فرنگی محل ستونی ) کا مشہورا ارشاد ہے کہ ١٣٠٣ بعد آنحضرت کے یا زمانے میں آنحضرت کے مجرد کسی نبی کا ہونا محال نہیں بلکہ صاحب شرع جدید ہونا البتہ ممتنع ہے ، کے موضوعات کبیر" ص ۶۹ از حضرت مولانا علی القاری طبع شاه (مطابق نسخه مصری شاه ) ختم الهدی سیل السوی من ۲۴ مطبع فردوسی بنگلور مه ۱۲۱۹ سے دوافع الوسواس في اثر ابن عباس" ص ۱ مطبع یوسفی فرنگی محل طبع سوم