تفسیر خاتم النبیین اور بزرگان سلف

by Other Authors

Page 26 of 86

تفسیر خاتم النبیین اور بزرگان سلف — Page 26

اس کا یہ معصوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ آپ آئندہ نبی ہوں گے کیونکہ اس سے تو رسول اللہ کی کوئی خصوصیت ثابت نہیں ہوتی وجہ یہ کہ علم خداوندی تو ہرشی پر محیط ہے۔یہیں اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ آپ کی نبوت تکمیل و تخلیق آدم سے بھی پہلے تھی یہی وجہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام نے آنکھ کھولتے ہی عرش الٹی پر حضور کا اہم مبارک محمد رسول اللہ لکھا ہوا دیکھائے ۱۲۹٤ حضرت مولانامحمد قاسم صاحب نانوتوی دستوئی شاہ نے تحذیر الناس میں خاتم انبیین کا مذکور مفهوم ایک حدیث نبوی سے اخذ کیا جو یہ ہے :- حديث كُنتُ نَبِيا وَآدَهُ بَيْنَ المَاءِ وَالطِین بھی اسی جانب مشیر ہے کیونکه فرق قدم نبوت اور حدوث نبوت با وجود اتحاد نوعی خوب جب ہی چسپاں ہو سکتا ہے کہ ایک جاہ وصف ذاتی ہو اور دوسری جا عرضی ، اور فرق قدم وحدوث اور دوام و عروض فہم ہو یعنی سمجھ میں آجائے تو اس حدیث سے ظاہر ہے، ہر کوئی سمجھتا ہے کہ اگر نبوت کا آپ ہی کے ساتھ مخصوص سا قدیم ہونا نہ ہوتا تو آپ مقام اختصاص میں یوں نہ فرماتے (جیسا کہ حدیث بالا میں فرمایا ہے، علاوہ بریں حضرات صوفیہ کرام کی یہ تحقیق کہ مرتی روح محمدی صلی اللہ علیہ و سلم تعیین اول یعنی صفت علم ہے اور بھی اس حدیث کے موتیہ ظاہر ہے کہ شاعر کی ترتیب سے شعر آوے گا اور طبیب کی تربیت سے فین طلب اور محمدت کی تربیت دربارہ حدیث مفید ہوگی، فقیہ کی دربارہ فقہ - سوجس کی مربی صفت العلم ہو۔جو علم مطلق ہے مثل البصار و اسماع علم خاص و قسم خاص نہیں ، تو لا جرم فرد تربیت یافتہ اپنی ذات پاک محمدی صلی اللہ علیہ وسلم بھی علم مطلق میں صاحب کمال ہو گی ہے صلی اللہ علیہ وسلم عہد حاضر کے ایک مشہور عالم جناب مولانا شبیر احمد صاحب عثمانی (متوفی شاہ کے الفاظ میں اکب نقطہ نگاہ کا خلاصہ یہ ہے کہ : 있어요 له خصائص الكبرى ج ا م م مجلس دائرة المعارف النظامیه حیدر آباد دکن سالاره تو تحذیر الناس ص 4 ۶