تفسیر خاتم النبیین اور بزرگان سلف — Page 14
۱۴ معراج میں امر کا روح پرور نظارہ دشمنان اسلام نے اگر چہ : سارا فتنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات با برکات کو بدنام کرنے کے لیے اٹھایا تھا مگر اس کے نتیجہ میں خالق کون و مکان کی طرف سے دنیا کو بتایا گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رسول بھی ہیں اور خاتم النبیین بھی ! انہیں سے ان کفار مکہ پر زیر دست ضرب کاری لگی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسم ! کا نام نعوذ باللہ ابتر رکھتے تھے، کیونکہ اس میں خبر دی گئی تھی کہ اگر چہ جسمانی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ یستم کی بالغ ، نرینہ اولاد نہیں گرا اپنی امت کے روحانی باپ کی حیثیت سے آپ کی روحانی اولاد بکثرت ہوگی جیسا کہ آپ کو معراج میں بتایا گیا، چنانچہ حضرت ابن عباس کی حدیث میں ہے کہ جب آنحضرت کو معراج کرائی گئی تو بعض ایسے انبیاء پر آپ کا گزر ہوا جن کے ساتھ ایک ہجوم تھا۔بعض ایسے تھے جن کے پاس صرف چند لوگ جمع تھے اور بعض کے ساتھ کوئی بھی نہ تھا ر غالباً حنظلہ نبی بھی انہیں میں سے ہونگے جن کی نسبت خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ ہر ہر قوم نے انہیں نہایت بیدردی سے ذبح کرکے ان کا گوشت پکایا اور پھر مزے سے لیکر اسے کھایا اور اس کا شوربہ استعمال کیا ہے ) سیر معراج میں حضور علی السلام کا گزر ایک بہت بڑے مجمع پر ہوا۔پوچھا کون ہیں یا جبر تمل نے عرض کیا ہوتی اور ان کی قوم میں، لیکن یا رسول اللہ اپناسر ذرا اوپر اٹھایئے، فرماتے ہیں دیکھتا کیا ہوں کہ اتنا عظیم الشان اجتماع ہے کہ سب آفاق کو گھیر رکھا ہے اور کہا گیا کہ یہ آپ کی اُمت ہے۔عرش کا به روح پرور نظارہ دراصل " ولكن رَسُولُ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِينُ ہی کی عملی تفسیر ہے۔خاتم النبیین میں دریائے حقائق اس پس منظر میں جب ہم بزرگان سلف کے افکار وخیالات کی روستے خاتم النبیین کے ارفع ترین اوراکل ترین اور اعلی ترین مقام محمدیت پر غور کرتے ہیں تو ان دو لفظوں میں ہمیں پہنچ چ حقائق ومعارف کے کنز العمال ج ، ض 140 کله نترمذی جلد۲ ص ۶۷ مطبع علمی دہلی 46