تفسیر خاتم النبیین اور بزرگان سلف — Page 12
: ۱۲ نے قرآن کریم کے معنے بیان فرماتے ہیں وہی صحیح اور حق نہیں گر یہ ہرگز پسے نہیں کہ جو کچھ قران کریم کے معارف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائے ان سے زیادہ قرآن کریم میں کچھ بھی نہیں یہ اقوال ہمارے مخالفوں کے صاف دلالت کر یہ ہے ہیں کہ وہ قرآن کریم کے غیر محدود وہ عظمتوں اور خوبیوں پر ایمان نہیں لاتے اور ان کا یہ کہنا کہ قرآن کریم ایسوں کے لیے اترا ہے جو اتنی تھے اور بھی اس امر کو ثابت کرتا ہے کہ وہ قرآن شناسی کی بصیرت سے بکتی ہے بہرہ ہیں وہ نہیں سمجھتے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم محض امیتوں کے لیے نہیں بھیجے گئے بلکہ ہر ایک رتبہ اور طبقہ کے انسان ان کی امت میں داخل ہیں۔اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔قُل يَاأَيُّهَا النَّاسُ إِلى رَسُولُ الله الله جمیعا میں اس آیت سے ثابت ہے کہ قرآن کریم ہر ایک استعداد کی تکمیل کے لیے میں نازل ہوا اور در حقیقت آیت ولكن رَسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبيين من بھی اسی کی طرف اشارہ ہے یہ سکے w ان کا دائمی معجزه برادران اسلام ! اس مقالہ میں قرآن عظیم کے غیر محدود حقائق میں سے ایک ایسے زندہ اور وائی معجزہ کو پیش کرنا مقصود ہے جو قرآن کی اس عظیم الشان سچائی پر قیامت تک کے لیے برہان ناطق کی حیثیت رکھتا ہے۔یہ معجزہ ہے خاتم النبیین کا عدیم المثال منصوب جس کا دنیا میں پہلی بار اعلان شعر میں سور : دنیا احزاب میں کیا گیا۔یہ مقدس اعلان حین مبارک اور پُر تاثیر الفاظ و کلمات میں تھا وہ یہ ہیں :- مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّن رِّجَا لكحد وَالكِن رَّسُولَ اللهِ وَ خَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَى عَلِيمًا (احزاب : ۲۱) فرمایا محمد صلی الہ علیہ وسلم) تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں لیکن اللہ کے رسول الله اور خاتم النبیین ہیں اور اللہ ہر ایک شے کا خوب علم رکھتا ہے۔له اعران آیت ۱۵۹ ے الصادقین کرامات الصادر قاین ص ۱۸ - ۲۰ ه احزاب آیت ۴۱