تفسیر خاتم النبیین اور بزرگان سلف — Page 11
11 عجائبات کی ہزار برس تک بھی تحقیقات کی جائے تو وہ ہزار برس ختم ہو جائیگا مگر اُس پتے کے عجائبات ختم نہیں ہوں گے اور اس میں ستر یہ ہے کہ جو چیز غیر محدود قدرت سے وجود پذیر ہوئی ہے اس میں غیر محدود عجائبات اور خواص کا پیدا ہونا ایک لازمی اور ضروری امر ہے اور یہ آیت کہ قلی تَوكَانَ الْبَحْرُ مِدَ اذاتِكَلِمَتِ رَبِّي لَنَفِدَ البَحْرَ قَبلَ أَن تَنْفَدَ كَلِمَتُ رَبِّي وَلَو جِتُنَا بِمِثْلِهِ مَدَداہ اپنے ایک معنی کی رُو سے اسی امرکی مؤید ہے کیونکہ مخلوقات اپنے مجازی معنوں کی گرد سے تمام کلمات اللہ ہی ہیں اور اسی کی بناء پر یہ آیت ہے کہ كَلِمَتُهُ القَهَا إِلَى مَرد لے کیونکہ ابن مریم میں مَرْيَمَ دوسری مخلوقات میں سے کوئی امر زیادہ نہیں۔اگر وہ کلمتہ اللہ ہے تو آدم بھی کلمہ اللہ ہے اور اس کی اولاد بھی کیونکہ ہر یک چیز كُن فَيَكُون کے کلمہ سے پیدا ہوتی ہے اسی طرح مخلوقات کی صفات اور خواص بھی کلمات رہتی ہیں یعنی مجازی معنوں کی رو سے کیونکہ وہ تمام کار کن فیکون سے نکلے ہیں سو ان معنوں کے رو سے اس آیت کا كُنْ فَيَكُون مطلب ہوا کہ خواص مخلوقات بجد اور بے نہایت ہیں اور جبکہ ہر ایک چیز اور ہر یک مخلوق کے نتواص بے حد اور بے نہایت ہیں اور ہر یک چیز غیر محدود عجائبات پرمشتمل ہے تو پھر کیونکہ قرآن کریم جو خدا تعالیٰ کا پاک کلام ہے صرف ان چند معانی میں محدود ہوگا کہ جو چالیس پچاس یا مثلا ہزار جز کی کسی تفسیر میں لکھے ہوں یا جس قدر ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک زمانہ محدود میں بیان کئے ہوں نہیں بلکہ الیسا پر لانا میرے نزدیک قریب قریب کفر کے ہے ، اگر عمدا اس پر اصرار کیا جائے تو اندیشہ کفر ہے یہ یہ ہے کہ جو کچھ نبی صلی الہ علیہ سلم له فسا - آیت ۱۷۲