تفسیر خاتم النبیین اور بزرگان سلف

by Other Authors

Page 10 of 86

تفسیر خاتم النبیین اور بزرگان سلف — Page 10

خود اللہ جل شانہ قرآنی معانی و مطالب کے اس دی اور نا پیدا کنار سمند ر کی نسبت فرماتا ہے : مِنْ وَلَو اَنَّ مَا فِي الْأَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ أقلام والتخريمده من بَعْدِ لا سَبْعَةُ اَبُحْرٍ مَّا نَفِدَاتُ كَلِمَاتُ اللهِ إِنَّ اللهَ عَزِيز فك (لقمان: ۲۸) یعنی اگر زمین کے تمام درختوں کو قلموں میں اور سمندروں کو سیاہی میں بدل دیا جائے اور پھر سات اور سمندروں کا پانی بھی سیاہی بنا دیا جائے اور اس سے کام الہ کی تفسیر لکھی جائے تو قلم ٹوٹ جائیں گے اور سمندروں کی سیاہی بھی خشک ہو جائیگی مگر قرآن کا سمندر پھر بھی برا ہی رہے گا اور اس کے معارف ختم ہونے میں تمہیں آئیں گے کیونکہ اللہ تعالی یقینا ناب اور بڑی حکمتوں والا ہے۔پر معارف تفسیر } حضرت بانی سلسله احمدیه مسیح موعود مهدی مسعود علیہ السلام نے اس آیت کی درج ذیل الفاظ میں پر معارف تفسیر فرمائی ہے :- " خدا تعالیٰ کی پاک اور سچی کلام کو شناخت کرنے کی یہ ایک ضروری نشانی ہے کہ وہ اپنی جمیع صفات میں بے مثل ہو، کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ جو چیز خدا تعالیٰ سے صادر ہوئی ہے اگر مثلاً ایک جو کا دانہ ہے وہ بھی بے نظیر ہے اور انسانی طاقتیں اس کا مقالہ نہیں کرسکتی اور بے شل ہونا غیر محدود ہونے کو مستلزم ہے یعنی ہر ایک چیز اسی حالت میں بے نظیر بھہر سکتی ہے جبکہ اس کی عجائبات اور خواص کی کوئی حد اور کنارہ نظر نہ آوے اور جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں یہی خاصیت خدا تعالے کی ہر یک مخلوق میں پائی جاتی ہے مثلاً اگر ایک درخت کے پتے کی