تفسیر خاتم النبیین اور بزرگان سلف — Page 21
۲۱ اللہ تعالیٰ نے آپ کے صدق عبود میت کی گواہی دی اور اس وقت جبکہ خدا تعالیٰ اپنی عظمت و جلال کیساتھ ظہور کر لگا د فرمائے گا اے میرے بندو میں نے تمہیں صرف عبودیت کے لیے پیدا کیا تھا سوتم عبودیت پیش کرو۔اس وقت محمد صلی الہ علیہ وسلم کے سوا اس مقام کے خوف سے سب بے حس و حرکت ہو جائینگے (ان پر سکتہ طاری ہوگا) گر آنحضرت قدم صدق کے باعث جملہ انبیاء و مرسلین کی صفوں کے آگے تشریف فرما ہونگے اور اللہ تعالٰی صدق عبودیت کی بدولت آپ کی عبودیت کو شرف قبول بخشے گا۔اورا اور اپنی کرسی کے پاس آپ کو مقام محمود پر سر فراز فرمائیگا۔پھر اس ختم (مهر) سے پردہ اُٹھایا جائیگا تو نور آپ کا احاطہ کر لیگا اور اس ختم دمر ) کی شعاعیں آپ پر ضور فشاں ہوں گی۔تب ایک ایسی شنار کا چشمہ آپ کے قلب مبارک سے پھوٹ کر آپ کی زبان مبارک پر رواں ہوگا کہ دیسی شنار مخلوق خدا میں سے کسی نے کبھی نہ شنی ہوگی۔یہاں تک کہ جمیلہ انبیا ءہ اس حقیقت سے مطلع ہو جائیں گے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ عز و جل کے عزوجل بارہ میں اُن سب سے زیادہ عرفان رکھتے ہیں۔لہذا خطیب اول اور شفیع اول کا منصب آپ ہی کو عطا ہوگا اور حمد کا جھنڈا اور سخاوت کی چابیاں آپ کو دی جائیں گی۔یو اے حمد عام مومنوں کے لیے ہو گا اور سخاوت کی چابیاں انبیا۔کے لیے۔خاتم النبوۃ کی اتنی بلند وارفع شان ہے کہ تم اس کے متحمل ہی نہیں ہو سکتے، تاہم امید ہے اس کی جبیں قدر بھی شان بیان کی گئی ہے تمہارے لیے اتنی ہی کافی ہے۔يا صاحب الجمال ويا ستيد البشر من و تیک المفسر لف نهر القمر وجهك لیکن اللنار لک کان حقہ بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر الك