تفہیماتِ ربانیّہ — Page 804
جن کا جواب ان کے اور انکے ہم خیالوں کے خیال میں ناممکن تھا۔حسب ہدایت حضرت خلیفہ اسیح الثانی، ایدہ اللہ بنصرہ العزیز واطال بقاءه فینا، مولا نا ابوالعطاء صاحب فاضل جالندھری کو عشرہ کاملہ کا جواب لکھنے کا ارشاد ہوا اور آپ نے تفہیمات ربانیہ کے ذریعہ عشرہ کاملہ کے تمام اعتراضات کو تار عنکبوت کی طرح بکھیر کر رکھ دیا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ارشاد گرامی وَاللهِ يَكْفِى مِنْ كُمَاةِ نِضَالِنَا ، جَلَدٌ مِنَ الْفِتْيَانِ لِلْأَعْدَاءِ یعنی خدا کی قسم ہمارے مردانِ کارزار میں سے ایک جوان ہی سب دشمنوں کیلئے کافی ہے، ایک مرتبہ پھر روز روشن کی طرح پورا ہوا۔وان الفضل نبید الله يؤتيه من يشاء تفہیمات ربانیہ لاریب احمدیہ لٹریچر میں ایک بیش بہا اضافہ ہے اور اُردو ادب کا بھی ایک شاہکار ہے۔جس میں مؤلّف صاحب کی جوانی کا زور بھی آفتاب نصف النہار کی طرح نظر آ رہا ہے! یہ کتاب دسمبر ۱۹۳۰ ء میں شائع ہوئی اور ۱۹۳۱ء سے مبلغین کلاس جامعہ احمدیہ قادیان کے نصاب میں داخل ہوگئی تھی۔احمدیہ پاکٹ بک میں بھی صداقت مسیح موعود علیہ السلام کی ذیل میں اس کے مندرجات بطور خلاصہ درج ہوئے۔اور اب تک یہ کتاب سلسلہ احمدیہ کی ان لا جواب تصنیفات میں سے ہے جن کا جواب لکھنے سے مخالفین احمدیت عاجز ہیں۔میں اس کتاب کی دوبارہ اشاعت پر مولانا ابوالعطاء صاحب فاضل جالندھری سابق مبلغ بلاد عربیه و پرنسپل جامعہ احمدیہ وجامعتہ المبشرین کو دلی مبارکباد دیتا ہوں، اور میری دلی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ محترم مولانا صاحب کو سلسلہ عالیہ احمدیہ کی مزید خدماتِ جلیلہ کی بھی توفیق عطا فرما تار ہے۔ایس دُعا از من وز جملہ جہاں آمین باد (4) محترم جناب شیخ عبد القادر صاحب فاضل مربی سلسلہ عالیہ احمدیہ تحریر فرماتے ہیں :- ی معلوم کر کے از حد خوشی ہوئی کہ ادارہ الفرقان کی طرف سے تفہیمات ربانیہ (804)