تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 777 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 777

مانا ہے ( ترجمان القرآن جنوری ۶۳، صفحہ ۳۶) پھر البیضاوی کے حاشیہ الشهاب علی البیضاوی میں واضح طور پر درج ہے "وَامَّ صِحَّةُ الْحَدِيثِ فَلَا شُبُهَةَ فِيْهَا “ کہ جہاں تک حدیث کے صحیح ہونے کا سوال ہے تو یہ بات ہر شک و شبہ سے بالا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔( جلدے صفحہ ۱۷۵ ) پس راوی ابراہیم بن عثمان کے بارے میں بعض لوگوں کے اعتراض ضعف کی وجہ سے حدیث نبوی کی صحت میں کسی شبہ کی گنجائش پیدا نہیں ہو جاتی۔سوم۔تیسری گزارش یہ ہے کہ ابن ماجہ کی اس حدیث کی تائید دوسری تین روایات سے بھی ہوتی ہے جو مختلف طریق سے مروی ہیں۔حافظ ابن حجر العسقلانی لکھتے ہیں :- وَبَيَّنَ الْحَافِظُ السَّيُوطِيُّ اَنَّهُ صَحٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ ابْنِهِ إِبْرَاهِيْمَ قَالَ لَا أَدْرِي رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى إِبْرَاهِيمَ لَوْ عَاشَ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا “ کہ امام سیوطی بیان کرتے ہیں کہ حضرت انس سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے صاحبزادے ابراہیم" کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں۔اللہ تعالیٰ کی رحمت ابراہیم پر ہوا گر وہ زندہ رہتا تو ضروری نبی بن جاتا۔“ (الفتاوی الحدیثیہ مصنفہ ابن حجر بیشمی صفحه ۱۵۰ مصری) نیز امام السیوطی فرماتے ہیں " رَوَاهُ ابْنُ عَساکر عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔“ (الفتاوی الحدیثیہ صفحہ ۱۵۰) کہ اس حدیث کو حضرت جابر نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔پھر علامہ قسطلانی کہتے ہیں وَقَدْ رُوِيَ مِنْ حَدِيثِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَوْ بَقِيَ إِبْرَاهِيمُ بن النَّبِيِّ صلى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكَانَ نَبِيًّا۔کہ حضرت انس بن مالک سے مروی ہے کہ اگر آنحضرت کے صاحبزادے ابراہیم زندہ رہتے تو ضرور نبی ہوتے۔(المواہب اللہ نیہ جلد اول صفحہ ۳۰۰) علاوہ ازیں تاریخ ابن عساکر میں لکھا ہے :۔" وَرَوَى الْبَيْهَقِيُّ بِسَنَدِه الى ابن عَبَّاسٍ أَنَّهُ لَمَّا مَاتَ إِبْرَاهِيمُ بنُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ لَهُ مُرْضِعًا فِي الْجَنَّةِ (777)