تفہیماتِ ربانیّہ — Page 746
" مَنْ قَالَ بِسَلْبٍ نُبُوَّتِهِ فَقَدْ كَفَرَ حَقًّا كَمَا صَرَّحَ بِهِ الْسَيُوطِيُّ فَإِنَّهُ نَبِيُّ لَا يَذْهَبُ عَنْهُ وَصْفُ النُّبُوَّةِ فِي حَيَاتِهِ وَلَا بَعْدَ وَفَاتِهِ۔“ کہ جو شخص یہ عقیدہ رکھے کہ حضرت مسیح نبوت سے علیحدہ ہو کر آئیں گے وہ گھلا کا فر ہے جیسا کہ امام سیوطی نے تصریح کی ہے۔حضرت مسیح بہر حال نبی ہیں، وصف نیقت اُن سے نہ زندگی میں الگ ہو سکتا ہے اور نہ ان کی وفات کے بعد۔“ (حج الکرامہ صفحہ ۴۳۱) پس مودودی صاحب اپنے خیالات میں جہاں قرآن وسنت کے خلاف چل رہے ہیں وہاں وہ سلف صالحین کے اصولی نظریات کی مخالفت کرنے سے بھی نہیں بچو کہتے۔معلوم ہوتا ہے کہ مودودی صاحب کے ایسے ہی غلط نظریات کا تفصیلی تجزیہ کرنے کے بعد شیخ الاسلام مولا ناحسین احمد مدنی کو لکھنا پڑا تھا کہ :- مودودی صاحب کا کتاب وسنت کا بار بار ذکرفرمان محض ڈھونگ ہے۔وہ نہ کتاب کو مانتے ہیں اور نہ سنت کو مانتے ہیں بلکہ وہ خلاف سلف صالحین ایک نیا مذہب بنارہے ہیں اور اسی پر لوگوں کو چلا کر دوزخ میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔“ کتاب مودودی دستور صفحه (۴۶) جماعت احمدیہ اور عقیدہ ختم نبوت حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے احمدیوں کو خطاب کرتے ہوئے تحریر فرمایا ہے کہ تمہارے لئے ایک ضروری تعلیم یہ ہے کہ قرآن شریف کو مہجور کی طرح نہ چھوڑو کہ تمہاری اسی میں زندگی ہے۔جو لوگ قرآن کو عزت دیں گے وہ آسمان پر عزت پائیں گے۔جو لوگ ہر ایک حدیث اور ہر ایک قول پر قرآن کو مقدم رکھیں گے ان کو آسمان پر مقدم رکھا جائے گا۔نوع انسان کے لئے روئے زمین پر اب کوئی کتاب نہیں مگر قرآن۔اور تمام آدمزادوں کے لئے اب کوئی رسول اور شفیع نہیں مگر محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم۔سو تم کوشش کرو کہ سچی محبت اس جاہ و جلال کے نبی کے ساتھ رکھو اور اس کے غیر کو اس پر کسی نوع کی بڑائی مت دو تا (746)