تفہیماتِ ربانیّہ — Page 730
میں اُن کے بڑے ارادے نمایاں تھے۔تب حضرت مسیح نے نبیوں اور رسولوں کے طریق کے مطابق اللہ تعالیٰ کے حضور التجاء کی اور اللہ تعالیٰ نے اپنی قوت اور حکمت سے اُنہیں محفوظ رکھا اور دشمنوں کے مکر کو نا کام کر دیا۔یہی وہ مضمون ہے جو آیات فلما الخ۔اَحَسٌ عِيسَى مِنْهُمُ الْكُفْرَ الہ میں مذکور ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان میں بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی تدبیر کافروں کے مکر کے مقابلہ پر نہایت قوی اور زبردست ہوتی ہے اس لئے حضرت مسیح کو بچانے اور محفوظ کرنے کی الہی تدبیر کے سامنے یہود کا مسیح کو قتل کرنے کا منصوبہ سرا سرا کارت گیا۔آیت يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَى وَمُطَهِرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِیں اللہ تعالی نے حضرت مسیح کو بشارت دی تھی کہ وہ اسے دشمنوں کے مکر سے نجات دے گا اور اُن کی بڑی تدبیر کو اُن کے مُنہ پر مارے گا۔وہ حضرت مسیح کو طبعی عمر دے گا یہاں تک کہ وہ آخر کار بغیر قتل اور صلیب کے طبعی طور پر فوت ہوں گے۔نیز خدا تعالیٰ ان کا اپنی طرف رفع کرے گا۔ہر وہ شخص جس کا ذہن اُن روایات سے خالی ہو جنہیں قرآن کریم پر حکم بنانا جائز نہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کی اس سنت کو بھی جانتا ہو جو نبیوں پر دشمنوں کے حملہ آور ہونے کے وقت ظاہر ہوتی رہی ہے مندرجہ بالا آیات پڑھتے وقت ان کا مذکورہ مفہوم ہی سمجھے گا نہ کچھ اور۔یہ بات میری سمجھ سے بالا ہے کہ میخ کو یہود کے درمیان سے اُٹھا کر آسمان پر لے جانے کو مکر کس طرح قرار دیا جا سکتا ہے۔اور پھر یہ کیونکر کہا جاسکتا ہے کہ یہ یہود کے مکر سے بہتر تھا حالانکہ وہ اس صورت کا سرے سے مقابلہ ہی نہیں کر سکتے تھے کیونکہ یہ انسانی طاقت سے بالا ہے؟ انسانی مکر کے مقابلہ پر الہی تدبیر پر لفظ مکر کا اطلاق اسی صورت میں ہوسکتا ہے جبکہ وہ تدبیر عام عادت سے خارج نہ ہو اور انسانی مکر کے اسلوب پر نافذ ہو۔جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اللہ تعالیٰ (730)