تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 695 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 695

اعلان کر دیا ہے پس نہ حضرت خضر زندہ ہیں نہ حضرت مسیح زندہ ہیں سب فوت ہو چکے ہیں۔(۲۱) نبی پر دوسری زبان میں الہام سوال۔نبی پر الہام صرف اس کی اپنی زبان میں ہونا چاہئے۔فرمایا وَمَا أَرْسَلْنَا مِنَ رَّسُوْلِ الَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ (ابراہیم رکوع ۱) ہم نے کوئی نبی نہیں بھیجا مگر اس کی قوم کی زبان کے ساتھ۔الجوابا - اگر تو نبی ایک قوم کی طرف مبعوث ہو اور اس قوم کی بھی ایک ہی زبان ہوتب تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے مگر جب کوئی نبی ساری قوموں کے لئے مبعوث ہو تو اس کو کس کی زبان میں الہام ہوگا ؟ آیت سے ظاہر ہے کہ یہ گزرے ہوئے ان نبیوں کا تذکرہ ہے جو قومی نبی تھے۔پس اس کی بناء پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر اعتراض نہیں ہوسکتا۔الجواب ۲ - آیت میں فرمایا ہے لِيُبَيِّنَ لَهُمْ تا وہ نبی ان لوگوں کے لئے کھول کر بیان کر سکے۔معلوم ہوا کہ آیت کا یہ مطلب ہے کہ ہر نبی کو اپنی مخاطب قوم کی زبان میں معیاری فصاحت و بلاغت عطا کی جاتی ہے تاوہ مطالب روحانیہ کو واضح طور پر بیان کر سکے۔الجواب ۳ - قرآن مجید فرماتا ہے وَقَالَ يَاتهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنطِقَ الطَّيْرِ ( انمل رکوع ۲) حضرت سلیمان نے کہا کہ اے لوگو! ہم کو پرندوں کی زبان سکھائی گئی ہے۔بتائیے حضرت سلیمان کو پرندوں کی زبان کس نے سکھائی تھی۔کیا اس آیت سے غیر احمدیوں کے نزدیک یہ ثابت نہیں کہ دوسرے انسانوں کی زبانیں تو رہیں ایک طرف اللہ تعالیٰ تو نبیوں کو پرندوں کی زبانیں بھی سکھا دیتا ہے اور ظاہر ہے کہ یتعلیم بذریعہ الہام ہی ہوسکتی ہے۔ہمارے نزدیک اس آیت کے ایک روحانی معنی بھی ہیں۔(۲۲) آپ لوگ مسیح موعود کے رفقاء کو صحابہ کیوں کہتے ہیں؟ الجواب - قرآن مجید نے سورۃ الجمعہ رکوع میں آیت وَأَخَرِينَ مِنْهُمْ لَهَا يَلْحَقُوا بجم میں خبر دی ہے کہ آخری زمانہ میں جن میں رسول پاک کی بعثت ثانیہ ہوگی اور آپ ان کی تعلیم فرمائیں گے وہ صحابہ ہی کا ایک حصہ ہیں۔اور پیغمبر علیہ السلام نے فرمایا ہے :۔ان سَيَكُونَ فِي آخِرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ قَوْمٌ لَهُمْ مِثْلُ أَجْرٍ أَوَّلِهِمْ صدق جدید لکھنو ۲۷ نومبر ۱۹۶۳ء میں آیت بالا کے بارے میں لکھا ہے :۔مطلب یہ ہے کہ دعوت کے لئے و ہی اسلوب اور طرز اختیار کرنا چاہئے جس کو اس زمانہ کا ذہن و مزاج اچھی طرح سمجھ سکے۔“ (695)