تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 641 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 641

دلیل سوم - حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس اشتہار میں تحریر فرماتے ہیں :- میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی بہت عمر نہیں ہوتی اور آخر وہ ذلت اور حسرت کے ساتھ اپنے دشمنوں کی زندگی میں ہی نا کام ہلاک ہو جاتا ہے۔“ یہ الفاظ اور یہ طریق فیصلہ صاف ظاہر کر رہا ہے کہ یہ اشتہار دُعائے مباہلہ ہے۔کیونکہ یہ قانون مباہلہ ہی کی صورت میں چسپاں ہوسکتا ہے۔واقعات کی رو سے بھی ، مولوی ثناء اللہ صاحب کے نزدیک بھی۔اور خود حضرت مسیح موعود کا بھی یہی مذہب ہے۔جیسا کہ حضور نے خود فرمایا ہے :- کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سب اعداء ان کی زندگی میں ہی ہلاک ہو گئے تھے؟ بلکہ ہزاروں اعداء آپ کی وفات کے بعد زندہ رہے۔ہاں جھوٹا مباہلہ کرنے والا بچے کی زندگی میں ہلاک ہوا کرتا ہے۔ایسا ہی ہمارے مخالف بھی ہمارے مرنے کے بعد زندہ رہیں گے۔ہم تو ایسی باتیں سُن کر حیران ہوتے ہیں۔دیکھو ہماری باتوں کو کیسے اُلٹ پلٹ کر پیش کیا جاتا ہے اور تحریف کرنے میں وہ کمال حاصل کیا ہے کہ یہودیوں کے بھی کان کاٹ دیئے ہیں۔کیا یہ کسی نبی ، ولی، قطب غوث کے زمانہ میں ہوا کہ اُس کے سب اعداء مر گئے ہوں۔بلکہ کافر منافق باقی رہ ہی گئے تھے۔ہاں اتنی بات صحیح ہے کہ بچے کے ساتھ جو جھوٹے مباہلہ کرتے ہیں وہ بچے کی زندگی میں ہلاک ہوتے ہیں۔“ (اخبار الحکم ۱۰ اکتو برے | صفحہ 9) لہذا ماننا پڑے گا کہ اشتہار آخری فیصلہ جو اسی قانون پر مبنی ہے اشتہار دُعائے مباہلہ ہے۔وھو المقصود دلیل چہارم - حضرت اقدس نے مولوی ثناء اللہ صاحب کو لکھا ہے کہ :- میں خُدا کے فضل سے اُمید کرتا ہوں کہ آپ سنت اللہ کے موافق مکذبین کی سزا دو سے نہیں بچیں گے۔“ اور پھر اس کی تشریح میں ان کی موت کا پہلے واقع ہو جانا اُن کی سزا بتائی ہے۔ظاہر ہے کہ یہ سزا، جیسا کہ اوپر کے اقتباس سے عیاں ہے، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نزدیک (641)