تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 49 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 49

فصل دوم حضرت جی موعود علیہ السلام دعای متفات غلط بیانی کا جواب مجھ کو بس ہے وہ خدا عہدوں کی کچھ پرواہ نہیں ہو سکے تو خود بنو مهدی بحکم کردگار ( حضرت مسیح موعود) انبیاء کرام فطرتی طور پر خلوت پسند ہوتے ہیں۔انہیں شہرت سے بہت نفرت ہوتی ہے۔اور اگر قدرت کا زبردست ہاتھ ان کو کھینچ کر باہر نہ لے آتا وہ ہمیشہ کے لئے گوشتہ تنہائی کو ہی گنج عافیت سمجھتے اور کبھی دنیا کے سامنے نہ آتے۔یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے دعوے کے متعلق جلدی نہیں کرتے۔ان کی کمال سادگی ان کے دعوے کی سچائی کی زبر دست دلیل ہوتی ہے اور اُن کی عدم بناوٹ پر بین گواہ۔وہ خدا تعالیٰ کے بُلوانے سے بولتے اور اس کی اطاعت میں محور ہتے ہیں۔خود حضرت سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق صحیح حدیث میں لکھا ہے كَانَ يُحِبُّ مُوَافَقَةَ اَهْلِ الْكِتَابِ فِيْمَا لَمْ يُؤْمَرُ به (صحیح مسلم جلد ۲ صفحہ ۲۹۶ باب فی سدل النبی شعره) که حضور ان امور میں اہل کتاب سے موافقت رکھنے کو پسند فرماتے جن میں آپ مامور نہ ہوتے تھے۔یعنی جب تک خدا تعالیٰ کی وحی صراحت کے ساتھ آپ کو کسی بات کے ماننے یا کرنے کا حکم نہ دیتی آپ اپنے سے پہلے اہلِ کتاب کے طریق پر عامل رہتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے قُل لَّو شَاءَ اللهُ مَا تَلَوْتُهُ عَلَيْكُمْ وَلَا ادريكُمْ به۔اے رسول کہدے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا منشاءنہ ہوتا تو میں یہ تعلیم تم کو نہ سناتا۔یعنی میں تو ہر کام اللہ تعالیٰ کے حکم سے کرتا ہوں اور جب جب اور جو جو حکم آتا ہے اس کی تعمیل کرتا ہوں اس میں میرا کیا قصور ہے؟ انا جیل سے ثابت ہے کہ حضرت بیٹی علیہ السلام سے جب یہود نے پوچھا کہ کیا تو موعود 49