تفہیماتِ ربانیّہ — Page 494
(الف) " تم ہوشیار رہو اور خدا کی تعلیم اور قرآن کی ہدایت کے برخلاف ایک قدم بھی نہ اُٹھاؤ۔میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ جو شخص قرآن کے سات سو حکم میں سے ایک چھوٹے سے حکم کو بھی ٹالتا ہے وہ نجات کا دروازہ اپنے ہاتھ سے اپنے پر بند کرتا ہے۔حقیقی اور کامل نجات کی راہیں قرآن نے کھولیں اور باقی سب اس کے فل تھے۔سو قرآن کو تدبر سے پڑھو اور اس سے بہت ہی پیار کرو، ایسا پیار کہ تم نے کسی سے نہ کیا ہو کیونکہ جیسا کہ خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ الْخَيْرُ كُلَّهُ فِي الْقُرْآنِ کہ تمام قسم کی بھلائیاں قرآن میں ہیں۔یہی بات سچ ہے۔افسوس ان لوگوں پر جو کسی اور چیز کو اس قدر مقدم رکھتے ہیں۔تمہاری تمام فلاح اور نجات کا سر چشمہ قرآن میں ہے الغر “ ( کشتی نوح صفحہ ۲۴) (ب) " تمہارے لئے ایک ضروری تعلیم یہ ہے کہ قرآن شریف کو مہجور کی طرح نہ چھوڑو کہ تمہاری اسی میں زندگی ہے۔جو لوگ قرآن کو عزت دیں گے وہ آسمان پر عزت پائیں گے۔جو لوگ ہر ایک حدیث اور ہر ایک قول پر قرآن کو مقدم رکھیں گے اُن کو آسمان پر مقدم رکھا جائے گا۔نوع انسان کے لئے رُوئے زمین پر اب کوئی کتاب نہیں مگر قرآن۔اور تمام آدمزادوں کے لئے اب کوئی رسول اور شفیع نہیں مگر محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم۔سوتم کوشش کرو کہ بچی محبت اس جاہ وجلال کے نبی کے ساتھ رکھو اور اس کے غیر کو اس پر کسی نوع کی بڑائی مت دو۔تا آسمان پر تم نجات یافتہ لکھے جاؤ۔اور یا درکھو کہ نجات وہ چیز نہیں جو مرنے کے بعد ظاہر ہوگی بلکہ حقیقی نجات وہ ہے کہ اسی دنیا میں اپنی روشنی دکھلاتی ہے۔نجات یافتہ کون ہے؟ وہ جو یقین رکھتا ہے جو خدا سچ ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس میں اور تمام مخلوق میں درمیانی شفیع ہے۔اور آسمان کے نیچے نہ اس کے ہم مرتبہ کوئی اور رسول ہے اور نہ قرآن کے ہم مرتبہ کوئی اور کتاب 494)