تفہیماتِ ربانیّہ — Page 40
الْفَرِيں کہ بجز مجھ اکیلے قیدی کے اور کوئی خدا نہیں۔مبین ۲۸۵) وغیرہ کو کیوں لمبی مہلت ملی ہے؟ اس کا مختصر جواب تو یہی ہے کہ چونکہ خدا تعالیٰ کا قانون ہر دو قسم کے کا ذبوں کے لئے الگ الگ ہے لہذا قابل اعتراض بات نہیں۔دعوئی ماموریت و نبوت میں افتراء کرنے والے کے لئے ولو تقول کی وعید مقرر فرمائی اور مدعی الوہیت کے متعلق فرمایا :- وَمَنْ يَقُلْ مِنْهُمْ إِلَى إِلَهُ مِنْ دُونِهِ فَذَلِكَ نَجْزِيْهِ جَهَنَّمَ كَذَلِكَ نَجْزِي الظَّلِمِينَ (انبیاء رکوع ۲) b کہ جو شخص خدائی کا دعویدار ہو اس کی سزا جہنم ہے اور ایسے ظالموں کی یہی سزا ہے۔“ گویا خدا تعالیٰ نے ہر دو دعووں کے مدعیوں کی سزا میں فرق رکھا ہے۔پس ایک کو دوسرے پر قیاس کرنا غلطی ہے اور وَلَوْ تَقَول کے مطالبہ پر فرعون یا بہاء اللہ کا ذکر کرنا سراسر نادانی ہے۔اس فرق کی بناء ظاہر ہے کہ الوہیت اور خدائی کا ادعاء ہمہ حوائج بشریہ اہل عقل کے لئے موجب فتنه و گراہی نہیں ہو سکتا۔( إِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهُ ) لہذا اس کی سزا جہنم قرار دی۔لیکن انبیاء ابتداء سے ہی انسانوں میں سے مبعوث ہوتے رہے۔لہذا اگر کوئی ما بہ الامتیاز قائم نہ کیا جاتا تو دنیا کے لئے ضلالت سے بچنے کا کوئی ذریعہ نہ ہوتا۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے مدعی نبوت کا ذبہ کے لئے اسی دُنیا میں قطع و تین اور نا کامی کی سزا مقرر فرمائی۔علامہ ابومحمد ظاہری نے اپنی مشہور کتاب الفصل فى الملل والاهواء والنحل میں اس فرق کو تسلیم فرماتے ہوئے لکھا ہے : " وَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِ الْكَلَامِ إِنَّ الدَّجَّالَ إِنَّمَا يَدَّعِي الرُّبُوبِيَّةَ وَمُدَّعِى الرُّبُوبِيَّةِ فِي نَفْسٍ قَوْلِهِ بَيَانُ لِذُبِهِ قَالُوا فَظُهُورِ الْآيَةِ عَلَيْهِ لَيْسَ مُؤجِبًا لِضَلَالِ مَنْ لَّهُ عَقْلٌ وَأَمَّا مُدَّعِى النُّبُوَّةَ فَلَا سَبِيْلَ إِلى ظُهُورِ الْآيَاتِ عَلَيْهِ لِأَنَّهُ كَانَ يَكُونُ ضَلَالًا لِكُلِّ ذى عقل۔“ (جلد ا صفحه ۱۰۹) ترجمہ۔بعض اصحاب کلام نے کہا ہے کہ دجال ربوبیت کا مدعی ہوگا۔اور مدعی کربوبیت کا نفس دعوی ہی اس کے کذب کی دلیل ہے۔سواس سے کسی 66 40