تفہیماتِ ربانیّہ — Page 420
وو وو نکتہ چین کی نظر میں وہ کثرت بھی قلت کی صورت میں نظر آ وے یہ سو در حقیقت کثرت استجابت دعا ایک نسبتی امر ہے جس کی صحیح اور یقینی اور قطعی تشخیص جو منکر کے منہ کو بند کرنے والی ہو مقابلہ سے ہی ظاہر ہوتی ہے۔" (آسمانی فیصلہ صفحہ ۷ طبع سوم ) " یادر ہے کہ خدا کے بندوں کی مقبولیت پہچاننے کے لئے دعا کا قبول ہونا بھی ایک بڑا نشان ہے بلکہ استجابت دعا کی مانند اور کوئی بھی نشان نہیں کیونکہ استجابت دعا سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک بندہ کو جناب الہی میں قدر اور عزت ہے۔اگر چہ دعا کا قبول ہو جانا ہر جگہ لازمی امر نہیں کبھی کبھی خدائے عزوجل اپنی مرضی بھی اختیار کرتا ہے۔لیکن اس میں کچھ شک نہیں کہ مقبولینِ حضرت عزت کے لئے یہ بھی ایک نشان ہے کہ یہ نسبت دوسروں کے کثرت سے ان کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور کوئی استجابت دعا کے مرتبہ میں ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔(حقیقۃ الوحی صفحہ ۳۴۲) (متر) " سنتِ الہیہ اسی طرح پر واقع ہے کہ خدا ان کی سنتا ہے اور ایسا ہی ہوتا ہے کہ خدا ان کی دُعا کورڈ نہیں کرتا اور کبھی ان کی عبودیت ثابت کرنے کے لئے دُعاسنی نہیں جاتی تا جاہلوں کی نظر میں خدا کے شریک نہ ٹھہر جائیں۔‘“ (حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۸) (س) " خدا تعالیٰ اپنے مکالمہ کے ذریعہ سے تین نعمتیں اپنے کامل بندہ کو عطا فرماتا ہے۔اول اس کی اکثر دعائیں قبول ہوتی ہیں اور قبولیت سے اطلاع دی جاتی ہے۔دوم اس کو خدا تعالیٰ بہت سے امور غیبیہ پر اطلاع دیتا ہے سوم اس پر قرآن شریف کے بہت سے علوم حکمیہ بذریعہ الہام کھولے جاتے ہیں۔پس جو شخص اس عاجز کا مکذب ہو کر پھر یہ دعوی کرتا ہے کہ یہ ہنر مجھ میں پایا جاتا ہے میں اس کو خدا تعالیٰ کی قسم دیتا ہوں کہ ان تینوں باتوں میں میرے ساتھ مقابلہ کرے مگر یاد رکھنا چاہئے کہ ہرگز ایسا نہیں کر سکیں گے۔(420)