تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 408 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 408

کہ بات کیا ہوتی ہے اور یہ لوگ کس رنگ میں پیش کرتے ہیں۔مسیح الزمان نے سچ فرمایا ہے ؎ پھر دوبارہ آگئی اخبار میں رسم یہود : پھر سیح وقت کے دشمن ہوئے یہ بجبہ دار معترض پٹیالوی کی دونوں بیان کردہ پیشگوئیاں اس رنگ میں ثابت نہیں ہوسکتیں جس طرز میں اس نے ان کا ذکر کیا ہے۔اگر کوئی ثابت کر سکتا ہے تو ہم اس کے لئے اس کو چیلنج کرتے ہیں۔وافع البلاء اور کشتی نوح کے ان حوالجات سے مندرجہ ذیل امور مستنبط ہوتے ہیں۔(۱) قادیان میں طاعون جارف یا بر بادی افکن نہ پڑے گی۔(۲) قادیان کی یہ حفاظت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعا اور حضور کے اکرام کا نتیجہ ہے۔(۳) انسانی برداشت کی حد تک قادیان میں طاعون پڑ سکتی ہے۔(۴) حضرت مسیح موعود اور حضور کی چاردیواری کے اندر رہنے والے سب لوگ حضور کے کامل پیر و علی الاطلاق طاعون سے محفوظ رہیں گے۔(۵) جماعت کے لوگ نسبتا زیادہ محفوظ رہیں گے۔ہاں ناقص پیرو وغیرہ طاعون کا نشانہ ہو سکتے ہیں۔ہر عقلمند انسان ان پانچوں نتائج سے اتفاق کرے گا۔واقعات شاہد ہیں کہ یہ امور خمسه روز روشن کی طرح پورے ہوئے۔قادیان میں حضرت کی دُعا کے باعث کبھی بھی بربادی افگن یا طاعون جارف نہیں آئی۔ہاں بعض اموات ہوئی ہیں جو انسانی برداشت کی حد کے اندر اور شاذ و نادر تھیں۔اسی معمولی تعداد کو محض قادیان کی نسبت سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے طاعون زور پر تھا (حقیقۃ الوحی صفحہ ۸۴) قرار دیا ہے۔کیونکہ زور کا لفظ نسبتی ہے اور قادیان کے لئے ان چند اموات سے زیادہ زور متصور نہ تھا اس لئے حضور نے اسی کو زور تحریر فرمایا ہے۔بعض نادان اپنی کم فہمی سے اسی کو مور داعتراض بنالیا کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام طاعون سے بالکل محفوظ رہے۔حضور کے مکان کے سب لوگ جو قریباً یکصد نفوس بلکہ اس سے بھی زیادہ تھے کلی طور پر محفوظ رہے۔حتی کہ اس مکان میں ایک بچوہا تک نہ مرا۔آپ کے کامل پیرو سب کے سب بچائے (408)