تفہیماتِ ربانیّہ — Page 306
چونکہ مرزا صاحب کو اعجاز کے باطل ہو جانے کا اندیشہ تھا اس لئے ۲۰ یوم کی قید لگادی۔“ (عشرہ صفحہ ۶۷) مولوی ثناء اللہ صاحب نے لکھا تھا :- " بھلا اگر یقین ہوتا تو پانچ روز کی مدت کی کیوں قید لگاتے۔کیا قرآن شریف کے اظہار اعجاز کے لئے بھی کوئی تحدید ہے۔“ ( الہامات صفحہ ۹۷) الجواب۔میں کہتا ہوں کہ اگر اندیشہ ہوتا تو ہمیں "یوم کی مہلت بھی تسلیم نہ کرتے۔بیس دن کی مہلت دینا اور دس ہزار روپیہ انعام مقرر کرنا اور سارے علماء کومل کر نظیر پیش کرنے کے لئے للکارنا ایسے امور ہیں جو ایک دانشمند کی نظر میں شک، اندیشہ، خطرہ اور عدم یقین کی گنجائش باقی نہیں رہنے دیتے۔ہمارے مخالفین کا بے شک یہ حق تھا کہ یہ سوال کرتے کہ ہمیں مہلت تھوڑی دی ہے اور خود زیادہ مدت میں لکھا ہے۔اور اگر فی الواقع ایسا ہوتا تو قابل اعتراض بھی تھا۔لیکن جیسا کہ ہم ثابت کر آئے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جتنے عرصہ میں خود رسالہ تالیف فرمایا اس سے قریباً دو چند وقت مولوی ثناء اللہ امرتسری اور علماء کو اس کے جواب کے لئے دیا۔حضرت نے خود لکھا ہے۔میں اپنے مخالفوں پر کوئی ایسی مشقت نہیں ڈالتا جس مشقت سے میں نے حصہ نہ لیا ہے۔“ ( اعجاز احمدی صفحہ ۸۹) پس وہ اس باب میں ہرگز حق نہیں رکھتے کہ اعتراض کریں کیونکہ حضرت اقدس نے ان کو اپنے سے زیادہ وقت دیا تھا۔تعیین مدت کی حکمت ہاں اگر یہ سوال پیدا ہو کہ کیا وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے اعجازی کلام کے مثل لانے کے لئے محدود عرصہ مقرر کر دیا تو یا درکھنا چاہئے کہ اس کی کئی حکمتیں ہیں۔اول - محدود عرصہ مقرر کرنے کی پہلی حکمت یہ ہے کہ تا مخالفین کو جلد معارضہ کرنے کی ترغیب ہو۔اور وہ دیر تک مطالبہ مثل پر اب لاتے ہیں“ کہہ کر التواء نہ کرتے رہیں اور ے ہیں بلکہ عملاً پچیس دن کی جگہ بار بار پانچ روز کا ذکر محض دھوکہ دینے کے لئے ہے ورنہ کیا وجہ تھی کہ مصنف عشرہ میں یوم کی مہلت تسلیم کرتا ہے؟ ، بلکہ سہ چند۔کیونکہ آپ نے آٹھ دن میں لکھ کر اور طبع کرا کر مولوی صاحب کے گھر پہنچا دیا یعنی ۸ نومبر سے ۱۶ نومبر تک نگران کو ۱۶ ارنومبر سے ۱۰؍ر دسمبر تک ۲۵ دن کی مہلت دی۔(مؤلف) (306)