تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 245 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 245

کے کئی جواب ہیں :- اول - تفسیر کے متعلق حضرت کی جو رائے نہایت عمدہ ہے ، شیریں بیان ہے“ کے الفاظ میں مذکور ہے اس کے لئے معترض پٹیالوی نے کوئی حوالہ نہیں دیا تا کہ پردہ دری نہ ہو جائے۔اصل بات یہ ہے کہ یہ رائے خود ڈاکٹر عبد الحکیم خاں نے مرتد ہونے کے بعد اپنے رسالہ الذکر الحکیم ۲ صفحہ ۵۳ میں اپنی ہی روایت سے درج کی ہے جو ہرگز ہرگز شائستہ التفات نہیں۔وہ اسی رسالہ میں متعدد کذب بیانیاں کر چکا ہے۔قرآن پاک کا ارشاد ہے إِذَا جَاءَ كُمْ فَاسِقٌ بِنَبَا فَتَبَيَّنُوا - الآية- کہ فاسق کی خبر پر اعتماد مت کرو۔پس جواب اول تو یہی ہے کہ رائے اول کے متعلق کوئی سند، کوئی حوالہ، کوئی ثقہ روایت پیش کرو۔جب تم ایسا نہیں کر سکتے تو یہ دعوئی پایۂ اعتبار سے گرا ہو ا ثابت ہوا اور اختلاف کا کوئی اعتراض باقی نہ رہا۔دوم - بطریق تنزل اگر ہم تسلیم کر لیں کہ حضور نے فی الواقع یہی الفاظ فرمائے تھے تب بھی کوئی حرج نہیں کیونکہ ایک مبتدی کی حوصلہ افزائی کے لئے ایسا کہہ دیا جاتا ہے۔دیکھئے انصار کے دولڑ کے ابو جہل کے قتل کے بارہ میں تنازع کر رہے تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سےفرمایا :- " << كِلَاكُمَا قَتَلَهُ “ تم دونوں نے اس کو قتل کیا ہے۔علامہ کرمانی اس پر فرماتے ہیں :- إِنَّمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِلَاكُمَا قَتَلَهُ تَطْبِيبًا لِقَلْبِ الْآخَرَ مِنْ حَيْثُ أَنَّ لَهُ مُشَارَكَةً فِي قَتْلِهِ۔“ کرمانی بر حاشیه بخاری مجتبائی صفحه ۴۴۴) کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے لڑکے کے دل کو خوش کرنے کے لئے فرما دیا کہ تم دونوں نے اس کو قتل کیا ہے۔اس حیثیت سے کہ اگر چہ وہ قاتل نہ تھا مگر اس کو بھی کچھ شراکت حاصل تھی۔“ اب صاف بات ہے کہ ڈاکٹر عبدالحکیم حضرت کو تفسیر کے بعض حصص سناتا ہے جیسا کہ نیک لوگوں کا قاعدہ ہے ان کی نگاہ صرف خوبیوں پر ہوتی ہے اور یوں حوصلہ افزائی بھی (245)