تفہیماتِ ربانیّہ — Page 204
کے روز اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی تنگی کرے گا۔پھر تم اس بات کو بھی مانتے ہو کہ دوزخ چلاتا رہے گا جب تک کہ رب العزت خود اپنا پاؤں اس میں نہ رکھے۔حَتَّى يَضَعُ رَبُّ الْعِزَّةِ قَدَمَهُ مسلم جلد ۲ صفحہ ۴۸۲) پھر تمہارے نزدیک بھی یہ درست ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے کشفی طور پر دو کتابیں دی تھیں جن میں سے ایک میں اہل جنت کے نام اور دوسری میں اہلِ نار کے نام درج تھے۔(ترمذی جلد ۱۲ ابواب القدر ) پھر تم یہ بھی مانتے ہو کہ کچھ دوزخیوں کو نکال کر خدا تعالیٰ ان پر اپنے ہاتھ سے چھینٹے دیگا۔افسوس کہ تمہارے نزدیک یہ سب تمثلات درست ہیں اور ان سے اللہ تعالیٰ کا جسمانی ہونا ثابت نہیں۔لیکن اگر حضرت مرزا صاحب نے لکھ دیا کہ میں نے تمثلی طور پر اللہ تعالیٰ کو دستخط کرتے دیکھا تو یہ امر تمہارے نزدیک کفر ، شرک اور خلاف شریعت ٹھہرا۔گویا تم مچھر کو چھانتے اور ہاتھی کو نگل جاتے ہو۔اف لكم كيف تحكمون۔ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان سب مندرجہ بالا احادیث و آیات پر پختہ ایمان رکھتے ہیں اور ان سب الفاظ کے معانی اللہ تعالیٰ کی شان کے مطابق لیتے ہیں۔خدا کو بندوں پر قیاس نہیں کرتے تا کہ ہم بھی یہ کہیں کہ اسماء اہل جنت والی کتاب خدا نے میز ، گرسی یا گاؤ تکیہ لگا کر لکھی ہوگی وغیرہ وغیرہ۔پس یہ اتہام یا اس کشف سے استدلال غلط، نا واجب اور باطل ہے۔اعتراض دوم - سرخ روشنائی کا وجود۔الجواب اس میں کیا محال ہے۔قرآن فرماتا ہے وَاِنْ تمَنْ شَيْ بِالَّا عِنْدَنَا خَزَابِتُهُ : وَمَا نُنَزِّلُهُ إِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوم کہ ہر چیز کے خزانے ہمارے پاس ہیں ہم ان کو ایک مقررہ اندازہ سے اُتارتے ہیں۔کیا ہر چیز میں شرخ روشنائی شامل نہیں؟ اعتراض سوم - ” خدا محض ایک کٹھ پتلی کی طرح مرزا صاحب کے منشاء کے مطابق کام کرتا ہے اور مرزا صاحب جو چاہیں اس سے کر سکتے ہیں۔‘ (عشرہ صفحہ ۵۱) الجواب۔اس کشف سے اتنا ثابت ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے ایک ل يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ کا غیر احمدی ترجمہ ( ابوالعطاء) (204)